پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اپنی انسپیکشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد بی آر ٹی میں کوتاہیوں اور قومی دولت کے ضیاع میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا احتسابی اداروں کا امتحان ہے کہ وہ اس میں ملوث بڑے مگر مچھوں پر کب ہاتھ ڈالتے ہیں،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ منصوبے کی تکمیل میں عوامی خزانے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثرہوگیا، انہوں نے کہا کہ پی سی ون میں شہریوں کی نجی آزادی اورپیدل سفرکرنے والے لوگوں کی گزرگاہوں کاخیال نہیں رکھاگیا،ایمل ولی خان نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت کی کرپشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بی آرٹی پر باتھ رومز انتہائی ناقص اور غیر معیاری بنائے گئے، انہوں نے کہا کہ ناقص منصوبہ بندی سے وابستہ اداروں کا احتساب کیا جائے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر اور مسائل کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کروائیں گے لیکن بدقسمتی سے وہ اعلان لالی پاپ ثابت ہوا کیونکہ کرپشن میں ان کی اپنی جماعت کے لوگ سامنے آ گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے 2 اپریل کو صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ان کے عہدوں سے برطرف کرکے معاملے کو دبانے کی کوشش کی ہے ،غیر ضروری منصوبے کی تعمیر اور عوامی خزانے کو کرپشن کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

ایمل ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پہلے دن سے بلاتفریق احتساب کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے نیب کو بی آر ٹی نظر نہیں آرہی جس کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوچکا ہے عوام کے پیسوں کا ایسا بے دریغ استعمال کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟ بی آر ٹی کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا جو دوسرے صوبے میں بلیک لسٹ قرار دے دی گئی تھی ،انہوں نے کہا کہ اقربا پروری انتہا پر ہے اور اپنوں کو نوازنے کے لئے تبدیلی سرکار نے پھولوں کے شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔

انہوں نے نیب سے مطالبہ کیا کہ اولیں ترجیح کے طور پر ان فائلوں پر غور کیا جائے جو بی آر ٹی کے حوالے سے ان کے دفاتر میں جمع کرائی گئی ہیں۔ عوامی ٹیکس کے پیسوں پر شاہ خرچیاں کرنے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہئیے جس کیلئے نیب کو بھی بلاتفریق احتساب کا عمل آگے بڑھانا ہوگا۔ تحریک انصاف کی شاہ خرچیاں اور غیرضروری منصوبے انہیں نظر نہیں آرہے لیکن اپوزیشن اراکین کے چائے کے بل تک کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکمنامہ کہیں اور سے مل رہا ہے، ایمل خان نے کہا کہ احتساب صرف اپوزیشن نہیں بلکہ حزب اقتدار میں بیٹھے مگرمچھوں کا بھی کرنا ہوگا۔