پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ احمد شاہ ابدالی پشتون تاریخ کا تاج ہے جنہوں نے پشتون ریاست کی بنیاد ڈالی تھی،وہ لوگوں کے چنے ہوئے لیڈر تھے اور انہی کی کوششوں سے پشتون قوم کو قبائلیت، جنگ و جدل سے نکل کر ایک منظم ریاستی ڈھانچے میں آگئے۔ پشاور پریس کلب میں پشتون ہیرو اور حکمران احمدشاہ بابا کی 247ویں برسی کی تقریب سے خطاب کے موقع پر میاں افتخار حسین کاکہنا تھا کہ احمد خان (احمد شاہ بابا) عوام کے لیڈر تھے،ایسا بھی نہیں کہ احمد شاہ بابا سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے،14سال کی عمر میں وہ قید ہوئے تھے اس کے بعد جب ان کو تمام قبائل کے جرگہ نے متفقہ طور پر بادشاہ منتخب کیا تھا اس کے بعد انہوں نے اصلاحات شروع کئے اور پہلی مرتبہ ریاست نے وزراتوں کو متعارف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت کے دوران احمد شاہ ابدالی اور باچا خان سمیت دوسرے پشتون ہیروز کو نصاب کا حصہ بنایا تھا کیونکہ اس سے پہلے کسی بھی جماعت نے حکومتی سطح پر اس طرح کی کوشش نہیں کی تھی اور وعدہ کیا کہ اے این پی دوبارہ حکومت میں آئی تو صوبہ کے ہر ضلع میں اپنے ہیروز کے پورٹریٹ اور مجسمے لگائیں گے تاکہ ہمارے تاریخی اسلاف قوم کے حافظے میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو سکے ۔ انھوں نے کہا کہ سوسال پہلے باچاخان نے پشتونوں کو جدوجہد اور ریاستی امور چلانے سمیت سیاست کے نئے رموز سکھائے جس میں بندوق کی جگہ عدم تشدد اور نفرت و جنگ کی جگہ محبت اور دلیل نے لے لی ۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ موجودہ پشتون نسل باچاخان کے عدم تشدد اور ان کی جدید تعلیمات کی بدولت سیاسی اصولوں کے دعویدار ہیں