پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اے این پی کی قربانیوں کی پوری دنیا معترف ہے ، ہم حسین ؑ کے پیروکار اور باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہیں ، دھونس اور دھمکیوں سے مرعوب ہونے کی بجائے عزت کی موت کو ترجیح دیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پختون سٹوڈنٹس کونسل کے زیر اہتمام گرینڈ پختون نائٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جودہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،امیاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمران دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں ،اور میرے اکلوتے بیٹے میاں راشد شہید کے قاتل کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں جو نہ صرف اپنا گناہ قبول کر چکا ہے،بلکہ لوگوں نے اسے شناخت بھی کر لیا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ2012میں گرفتار ہونے والا دہشت گرد اعتراف جرم کے بعد سے آج تک زندہ کیسے ہے اسے 7سال تک پھانسی نہیں دی گئی جس سے یہ شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں کہ اب اسے کسی اور کو ٹھکانے کیلئے استعمال کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ مجرم کو اب ضمانت دلانے کیلئے انسداد دہشت گردی میں پیش کیا جا رہا ہے اور مجھ پر کیس واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،انہوں نے ککہا کہ نیشنل ایکشن پلان کس کے لئے بنایا گیا ہے جب دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تو نیپ کا کیا مقصد ہے،انہوں نے کہا کہ جب تک ممکن ہوا صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے تاہم قوت برداشت جواب دے گئی تو پھر میدان میں ہونگے، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ایک پروفیسر کی جانب سے باچا خان اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم کہنے اور ہرزہ سرائی کی مذمت کی اور کہا کہ پروفیسر اپنا قبلہ درست کر لیں اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ انہیں کلمہ پڑھانے والے بھی باچا خان کے پیروکار ہیں،انگریز کے خلاف جدوجہد آزادی میں باچا خان نے جو قربانیاں دیں انہی کی بدولت آج پاکستان دنیا کے نقشہ پر ہے،انہوں نے کہا کہ اب تک میرے بیٹے کے مجرم اور اس کے سہولت کاروں اور کیس لڑنے والوں کو پھانسی ہو جانی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور اب اسے آزاد کر کے پھر سے استعمال کیا جائے گا، افغان امن مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں افغان حکومت اصل فریق ہے جسے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطہ ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی غلطی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر امن مذاکرات کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے۔