قبائلی اضلاع میں سینکڑوں مفلوج تعلیمی اداروں کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جائیں، سردار حسین بابک
چھ سو سے زائد سکول اور کالجز کی بندش سے قبائلی اضلاع کے بچوں اور بچیوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
مورچوں و رہائش کیلئے سیکورٹی اہلکاروں کے زیر قبضہ تعلیمی ادارے واگزار کرائے جائیں۔
حکومت گورنر ہاؤسز کو عوام کیلئے کھولنے کا شوشہ ترک کر کے عملی اقدامات اٹھائے۔
امن و امان کی بدترین صورتحال کے پیش نظر تباہ ہونے والے اداروں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ناگزیر ہے۔
ہنگامی بنیادوں پر سکولوں میں والدین اور اساتذہ کمیٹیاں تشکیل دے کر دوبارہ آباد کاری کا عمل شروع کیا جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے قبائلی اضلاع میں 6سو سے زائد تعلیمی اداروں میں معطل تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بدترین صورتحال اور تعلیمی اداروں کو درپیش خطرات کے پیش تعلیمی ادارے جن میں بیشتر سکول و کالجز بھی شامل ہیں بند پڑے ہیں اور ان اضلاع کے ہزاروں بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم چلے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ان بچوں کے کئی تعلیمی سال ضائع ہوچکے ہیں ج س کی تلافی وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں پر اہلکاروں نے مورچوں اور رہائش کیلئے قبضہ کر رکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت گورنر ہاؤسز کو عوام کیلئے کھولنے کا شوشہ ترک کر کے عملی اقدامات اٹھائے ، سردار بابک نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے متاثرہ قبائلی اضلاع میں بڑے پیمانے پر تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے جن کی فوری ازسرنو تعمیر اور ان میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنا ناگزیر ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر اس اہم ایشو پر توجہ دے اور قبائلی اضلاع کے بچوں کا مستقبل مزید داؤ پر لگنے سے روکنے کیلئے اقدامات کرے،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا انضمام ہو چکا ہے لہٰذا ہنگامی بنیادوں پر سکولوں میں والدین اور اساتذہ کمیٹیاں تشکیل دے کر دوبارہ آباد کاری کا عمل شروع کیا جائے،انہوں نے مزید کہا کہ انضمام کے بعد نہ قبائلی اضلاع میں میں پرانا نظام باقی رہا اور نہ ہی صوبائی انتظامی نظام لاگو ہو سکا جس سے آدھا تیتر آدھا بٹیر والا قصہ بن چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں بند تعلیمی اداروں کو کھولنے میں تاخیر انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت کو سنجیدہ اور زمینی حقائق کے مطابق اقدامات اٹھانا ہونگے۔