اے این پی نے قبائلی اضلاع کے انتظامی امور میں تاخیر کے خلاف تحریک التوا جمع کرا دی
تحریک التوا سردار حسین بابک نے جمع کرائی ، اختیار صوبے کے ذیر انتظام لانے میں تاخیری حربوں پر اظہار افسوس
صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر قبائلی اضلاع کے نظم و نسق سنبھالنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے۔
قبائلی اضلاع میں دہشت گردی سے وہاں کے عوام کے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ازالہ ناگزیر ہے۔
ترقیاتی کاموں کے آغاز میں تاخیر اور تباہ حال قبائلی عوام کے نقصانات کا ازالہ نہ ہونا مایوسی کا سبب بنے گا۔
صوبے میں انضمام کے بعد فاٹا سیکرٹریٹ کی تاحال موجودگی سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے قبائیلی اضلاع کا انتظامی اختیار صوبے کے زیر انتظام لانے میں تاخیری حربوں کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی ہے ، تحریک التوا پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جمع کرائی جس میں اسمبلی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد تاحال قبائلی اضلاع کا اختیار صوبے کے زیر انتظام نہیں لایا جا رہا اور اس میں تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں،تحریک میں مزید کہاگیا ہے کہ اس قسم کے حربے افسوسناک ہیں اور قبائلی علاقوں کے عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر قبائلی اضلاع کے نظم و نسق سنبھالنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو روزمرہ حکومتی معاملات میں شدید مشکلات درپیش ہیں،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردی سے وہاں کے عوام کا ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ازالہ ناگزیر ہے،لوگوں کے کاروبار ختم ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمے نظم ونسق سنبھالنے میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد فاٹا سیکرٹریٹ کی تاحال موجودگی سے سوالات جنم لے رہے ہیں اور صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے بیرونی امداد متاثر ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے آغاز میں تاخیر اور دہشت گردی سے تباہ حال قبائلی عوام کے نقصانات کا ازالہ نہ ہونا مایوسی کا سبب بنے گا۔ قبائلی اضلاع میں 600 سے زائد تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ صوبائی حکومت سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامی نظم ونسق سنبھال لے۔