یونیورسٹی فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے،ایم پی اے شگفتہ ملک
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یونیورسٹیز کی حالت زار بہتر بنائے۔
ہسپتالوں میں ڈاکٹرز تک کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی جائنٹ سیکرٹری و ایم پی اے شگفتہ ملک نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر پابندی لگا رہی ہے تو دوسری طرف یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافی بھی کیا گیا ہے،طلباء کیلئے یونیورسٹیوں میں سہولیات موجود نہیں ہیں،جب طلباء و طالبات اپنے حقوق کیلئے اٹھتے ہیں تو اُن کی آواز دبانے کیلئے اُن پر پولیس کے ذریعے لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس موضوع پر خطاب کے بعد باچا خان مرکز سے جاری اپنے بیان میں شگفتہ ملک کا کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صوبہ بھر میں یونیورسٹیوں کی حالت زار کو بہتر بنائے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہونے والے طلباء پر تشدد کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ساتھ میں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ طالبات کے جائز مسائل کو فی الفور حل کیا جائے اور طلباء پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں اور یونیورسٹی انتظامیہ کے لوگوں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے،اسی طرح شگفتہ ملک نے صحت کے معاملے میں حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ آپ نے صحت کے شعبے میں کچھ نہیں کیا تو ہم پر تنقید کی جاتی ہے اب سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر صوبائی حکومت کے صحت تبدیلی پروگرام کے حقائق قوم کے سامنے آجائینگے کہ صوبائی حکومت ہسپتالوں میں ڈاکٹرز تک مہیا نہیں کرسکی ہے،انہوں نے اپنے بیان میں محکمہ داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ جیلوں میں قید قیدیوں کو بنیادی سہولیات دی جائے،کیونکہ جیلوں سے باہر آنے والے خبروں کے مطابق قیدیوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔