پختونخوا کونسل کا اجلاس

واپڈا قومی مجرم ہے،گڑھے مردے اکھیڑنے سے ملک کو نقصان ہو گا،اسفندیار ولی خان
این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بازگشت سے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں ۔
فاٹا کا ترقیاتی حصہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ذریعے خرچ کیا جانا چاہئے۔
ضمنی الیکشن میں کامیابی دو ماہ میں حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اے این پی کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے والے ہمیں سیاست سے دور نہیں کر سکتے۔
خود کشی کو آئی ایم ایف پر ترجیح دینے والے بالآخر کشکول اٹھا کر پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں۔
بد قسمتی سے ملک میں احتساب کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کو غلط فہمیاں دور کرکے تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہئے۔
فاٹا انضمام کے بعد اب بلوچستان کے پختونوں کے سینے پر کھنچی لکیر مٹائیں گے۔باچا خان مرکز میں صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ چالیس سال تک ڈیموں کی تعمیر سے غافل رہنے والے واپڈا قومی مجرم ہے ،کالاباغ ڈیم متنازعہ منصوبہ ہے اور گڑھے مردے اکھیڑنے سے ملک کو نقصان ہو گا،این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بازگشت سے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں ، فاٹا کا ترقیاتی حصہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ذریعے خرچ کیا جانا چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کی صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اسفندیار ولی خان نے ضمنی الیکشن میں اے این پی کے کامیاب ہونے والے امیدوروں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ دو ماہ میں حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت سامنے آ گیا ہے ، عوام نے غیر سنجیدہ اور ناقص حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ عوامی خدمت کی سیاست کی ہے اور اے این پی کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے والے ہمیں سیاست سے دور نہیں کر سکتے ،انہوں نے کہا کہ تمام نیب زدہ اور ای سی ایل میں ڈالے گئے لوگ آج حکومت کا حصہ ہیں ، عمران جو الزامات گزشتہ حکومتوں پر لگاتے رہے وہی تمام کام آج خود کر رہے ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ الزامات لگانا آسان لیکن حکومت کرنا مشکل کام ہے، جنہوں نے عمران کو22کروڑ عوام پر مسلط کیا ملک کی تباہی کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوگی، انہوں نے کہا کہ خود کشی کو آئی ایم ایف پر ترجیح دینے والے بالآخر کشکول اٹھا کر پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں لیکن ناقابل اعتبار ہونے کی وجہ سے کوئی ملک انہیں قرضہ دینے کو تیار نہیں ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں احتساب کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،اے این پی بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی اثرورسوخ سے قطع نظر سب کا بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ احتساب ہونا چاہئے، افغانستان کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کا اس حوالے سے مؤقف واضح ہے اور دونوں ملکوں کو آپس کی غلط فہمیوں کو دور کر کے تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور افغانستان ہمارے آباؤاجداد کی سرزمین ہے لہٰذا اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد اب بلوچستان کے پختونوں کے سینے پر کھنچی لکیر مٹائیں گے اور پختونوں کی ایک ملی وحدت قائم کریں گے، انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد مظاہرے میں شریک ہوئے اور اس بے گناہ کی شہادت کی مذمت کی البتہ اے این پی کا اپنا پلیٹ فارم موجود ہے اور ہم کسی دوسری پارٹی یا تنظیم کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکتے۔