ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہو چکی، حکومت قوم کیلئے تباہی کا باعث ہے، میاں افتخار حسین

احتساب کوگھر کی لونڈی بنا لیا گیا، نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ہمشیرہ کے خلاف قانون کس حد تک حرکت میں آتا ہے۔

طویل عرصہ سے احتساب اور کرپشن کے خاتمے کی گردان سننے کے بعد جو نتیجہ آیا وہ قوم کے سامنے ہے۔

سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے اور اس کا آغاز خود وزیر اعظم سمیت کرپٹ لوگوں سے کیا جانا چاہئے۔

شعراء اور ادباء بے بس اور ظلم کے ستائے لوگوں کے زخموں پر مرہم پٹی کی مانند ہوتے ہیں۔ باچا خان مرکز میں تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے اور موجودہ حکومت زیادہ دیر اقتدار میں رہی تو قوم کو بڑی تباہی کا سامنا کر سکتا ہے ،وقت آگیا ہے کہ دنیا خصوصاً ہمارے خطے میں پر امن،انسان دوست اور ترقی پسند پالیسیوں کی ضرورت ہے، معاشرے میں شاعر کے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا شاعرمظلوم عوام کی آواز اٹھاتا ہے، شعراء اور ادباء بے بس اور ظلم کے ستائے لوگوں کے زخموں پر مرہم پٹی کی مانند ہوتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے متحدہ عرب امارات میں پشتو ادبی ٹولنہ کے قیام کی 38ویں سالگرہ کے موقع پر باچا خان مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،تقریب کی صدارت م ر شفق نے کی جبکہ امارات کے اعزازی سفیر منظور الحق نے تقریب میں خصوصی ور پر شرکت کی ،اے این پی کے رہنما حاجی ہدایت اللہ خان اور سبز علی خان سمیت اعجاز خٹک،صابر احمد صابر محترمہ کلثوم زیب بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں افتخار حسین نے تقریب کے شرکا اور شعرا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شعراء اور ادباء کسی بھی زبان اورادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے شعرا پر زور دیا کہ وہ اصل حقائق اپنے قلم اور کلام کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ معاشرے میں خامیوں اور برائیوں سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں احتساب کو گھر کی لونڈی بنا لیا گیا ہے اور نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر کے راستے سے ہٹانے کا عمل جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ہمشیرہ کے خلاف قانون کس حد تک حرکت میں آتا ہے ، انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے احتساب اور کرپشن کے خاتمے کی گردان سننے کے بعد جو نتیجہ آیا وہ قوم کے سامنے ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے اور اس کا آغاز خود وزیر اعظم ،وزیر دفاع پرویز خٹک ، علیم خان، علیمہ خانم اور جہانگیر ترین سمیت پی ٹی آئی میں موجود کرپٹ لوگوں سے کیا جانا چاہئے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت نے صرف دو ماہ کے قلیل عرصہ میں عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، انہوں نے کہا نا تجربہ کاری کی وجہ سے حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کی تمام ذمہ داری عمران کو کندھا دینے والوں پر عائد ہوتی ہے۔اسرائیلی طیارے کی آمد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات اس حوالے سے دو بار بیان بدل چکے ہیں ،لہٰذا اہم قومی معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے، حکومت کو وضاحت دینی چاہئے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کیوں اور کس سے ملنے آئے تھے،؟ انہوں نے کہا کہ ملک کیناکام خارجہ و دخلہ پالیسیاں تبدیل کی جائیں تو ان تمام انسانیت دشمن عوامل کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں تقریب کے دوران پشتو ادبی ٹولنہ کے بانی ارکان کو یادگاری شیلڈز بھی دی گئیں جبکہ لطیف آفریدی اور شمس بونیری کو ان کی نمایاں خدمات پر ایوارڈز دیئے گئے۔