عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں پانچ قراردادیں متفقہ طور پر منظور 
ملک میں مہنگائی کے طوفان اور ٹیکسوں کی بھرمار عوام دشمن پالیسی کا حصہ ہے۔
پڑوسی ممالک کے ساتھ پر اعتماد اور دوستانہ تعلقات ملک و قوم کے بہتر مفاد میں ہیں۔
انتخابات میں منظم اور ٹیکنیکل دھاندلی ایک پارٹی کو ملک کے عوام پر مسلط کرنے کی سازش تھی۔
متنازعہ منصوبے کالاباغ ڈیم کا ایشو بار بار اٹھانا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
اے این پی اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

1) عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل ملک میں مہنگائی کے طوفان اور ٹیکسوں کی بھرمار کو عوام دشمن پالیسی سمجھتی ہے اور نئی حکومت کے آتے ہی غریب عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بم گرا دیا گیااور عوام میں اٹھنے کی سکت باقی نہیں رہی ،نئی حکومت کے نازل ہوتے ہی عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا گیا ہے۔روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ عوام کی برداشت سے باہر ہے اور عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے ، بجلی گیس ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،غریب عوام ٹیکسوں کے نئے انبار تلے دب گئے ہیں،اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ قیمتوں میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور غریب عوام کی حالت پر رحم کرتے ہوئے انہیں ریلیف پہنچانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔
2) مرکزی کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو یقینی بنانے کیلئے وقت کا ضیاع کئے بغیر اقدامات اٹھانے چاہئیں،پڑوسی ممالک کے ساتھ پر اعتماد اور دوستانہ تعلقات ملک و قوم کے بہتر مفاد میں ہیں ،اوراس سے ملک کے مسائل کے خاتمے میں مدد ملے گی،پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات دہشت گردی کے خاتمے میں نہ صرف مددگار بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے ضروری ہے،پڑوسی ممالک کے ساتھ ،سفارتی ،عوامی اور تجارتی روابط وقت کی ضرورت اور ملک و قوم کیلئے نہایت ضروری ہیں،ملک میں روز بروز مسائل میں اضافہ پڑوسی ممالک کے ساتھ غیر تسلی بخش تعلقات کی وجہ سے ہے۔
3) یہ مرکزی کونسل ملک میں ہونے والے گزشتہ25جولائی کے انتخابات میں منظم اور ٹیکنیکل دھاندلی کی مذمت کرتی ہے اور عوام کی رائے کے ساتھ کھلواڑ کو ملک کی سلامتی اور جمہوریت کے خلاف سازش سمجھتی ہے ،ملک میں ہونے والے انتخابات دراصل ایک پارٹی کو ملک کے عوام پر مسلط کرنے کی منظم منصوبہ بندی اور سوچی سمجھی سازش تھی،انتخابات کے پلانٹڈ نتائج نے عوام میں مایوسی پیدا کی ہے اور اب عوام کا الیکشن کمیشن پر اعتماد باقی نہیں رہا ،ملک کے کمزور ترین الیکشن کمیشن کا اختیار کسی اور نے ملک و قوم کے خلاف استعمال کیا جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں،ملک کے ذمہ دار اداروں نے پوری سینہ زوری کے ساتھ ایک مخصوص شخص اور اس کی پارٹی کو زبردستی حکومتوں پر براجمان کیا جو جمہوریت پر مسلسل شب خون مارنے کا تسلسل ہے ، اے این پی عوام کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے خلاف ہر سازش اور منصوبہ بندی کا مقابلہ کرے گی اور عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے والی ہر قوت کے سامنے ڈٹی رہے گی،اور ملک میں حقیقی جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔
4) ا یہ مرکزی کونسل ملک کے متنازعہ منصوبے کالاباغ ڈیم کا ایشو بار بار اٹھانے کو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے خلاف سازش اور کوشش سمجھتی ہے ،ملک کے تینوں صوبائی اسمبلیوں کی قراردادوں کے باوجود مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی ناکام کوشش ہے، اے این پی سمجھتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہے ،کالاباغ ڈیم کا ایشو اٹھانا عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ملک کے دیگر ڈیموں پر کام کرنے اور توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے عملی اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی بجائے وقت ضائع کرنے اور متنازعہ منصوبے کو بار بار چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔
5) مرکزی کونسل مطالبہ کرتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں مزید کسی ترمیمکی کوششیں نہ کی جائیں، اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے جس کی ہم بھرپور مخالفت کریں گے ، صوبوں کا حصہ کم کرنے سے مسائل جنم لیں گے ، اے این پی نے بڑی جدوجہد کے بعد صوبائی خود مختاری حاصل کی ہے اور اگر اس قسم کی کوئی بھی سازش ہوئی تو اے این پی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔