ولی باغ میں پریس بریفنگ

متحدہ حزب اختلاف کی تقسیم ملک کے مفاد میں نہیں،اسفندیار ولی خان
حکومت کو سیدھی راہ دکھانے کی غرض سے متحدہ اپوزیشن کا ایک پیج پر متفق ہونا ضروری ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین پرویز خٹک کو بنانا ’’بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے‘‘ کے مترادف ہے۔
دھاندلی کی فرانزک انکوائری کرائی جائے،ضمنی الیکشن میں میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔
ضمنی الیکشن میں پولنگ سٹیشن کے اندر تعیناتی سے فوج بطور ادارہ پھر متنازعہ ہو سکتا ہے،میڈیا سے بات چیت 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کو سیدھی راہ دکھانے کی غرض سے متحدہ اپوزیشن کا ایک پیج پر متفق ہونا ضروری ہے اور حزب اختلاف کی تقسیم سے صورتحال تبدیل ہو جائے گی جو ملک کے مفاد میں نہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ میں جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، قبل ازیں جے یو آئی کے قائد نے اسفندیار ولی خان سے ملاقات کی اور انہیں ان کے پوتے کی پیدائش پر مبارکباد پیش کی ،اس موقع پر مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور ، مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور ایمل ولی خان سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے،میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کو فعال اور متحرک کردار ادا کرنا ہو گا،ایک سوال کے جواب میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا چیئرمین پرویز خٹک کو بنانا ’’بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے‘‘ کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ جو شخص کرپشن میں نیب زدہ ہے وہ تحقیقاتی کمیٹی کیلئےء اہل نہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھاندلی کی فرانزک انکوائری کرائی جائے ،ضمنی الیکشن میں دھاندلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی کرنی ہے تو چیف الیکشن کمشنر قوم کا پیسہ ضائع کرنے کی بجائے سیلیکٹرز سے پوچھ کر اعلان کردیں تاہم اے این پی سمیت متحدہ اپوزیشن میدان خالی نہیں چھوڑے گی،انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ فوج پولنگ سٹیشن کے اندر تعینات کی گئی تو وہ پھر سے متنازعہ ہوگی ،سیکورٹی اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنوں کے باہر تعینات کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم متنازعہ مسئلہ ہے اور ملک کے تین صوبے اس کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کر چکے ہیں۔