قوم کا وقار مجروح کرنے والی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی،میاں افتخار حسین

حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ، عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے والے حکومت کو چلتا کر دیں ۔

پاکستانی روپے کی بے قدری سے9سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو اس حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ملک پر کٹھ پتلی وزیر اعظم مسلط کرنے کی وجہ سے چین اور سعودی عرب نے قرض دینے انکار کیا ۔

سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے اور اپنے لئے طوطا پالنے کی ملک کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

تمام دوست ہمسایہ ممالک ناراض ہیں اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

روزمرہ اشیا کی قیمتیں دو ماہ پہلے کی سطح پر لائی جائیں، مہنگائی کے خلاف مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ، عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے والے حکومت کو چلتا کر دیں ،حقیق جمہوری حکومت کے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے مہنگائی ، ناجائز ٹیکسوں اور قرضوں کی بھرمار کے خلاف اے این پی کے زیر اہتمام احتجای مظاہرے سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ اور اے این پی ڈسٹرکٹ و سٹی کی تنظیموں کے صدور و جنرل سیکرٹریز سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کو ایک رات میں پاکستانی روپے میں بے قدری سے9سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو اس حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقتدار میں آتے وقت ملکی خزانے میں 17ارب ڈالرز موجود تھے جو کم ہو کر اب 8سو ارب ڈالر رہ گئے ہیں جن میں سے6ارب ڈالرز بیرون ملک پاکستانیوں کے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو عوام پر مسلط کرنے والے ددیکھ لیں کہ سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے اور اپنے لئے طوطا پالنے کی ملک کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، انہوں نے کہا کہ چین اور سعودی عرب نے قرض دینے سے انکار اس لئے کیا کیونکہ عمران منتخب وزیر اعظم نہیں اور دنیا یہ بات اچھی طرح جانتی ہے،انہوں نے کہا کہ نیازی اور ان کے حواریوں پر قوم کا اعتبار نہیں رہا،عسکری وزیر اعظم اور جعلی پارلیمنٹ عوام کے گلے پر چھری پھیر کر مخصوص مفادات کیلئے دولت اینٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ، انہوں نے کہا کہ روز مرہ اشیا کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں،اور غریب خود کشیوں پر مجبور ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام دوست ہمسایہ ممالک ناراض ہیں اور ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں ، انہوں نے اقتصادی پالسیسی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت ایک سال بمشکل نہیں چل سکتی،انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں لانے والے اسی راستے سے گھر بھیجے اور مہنگائی سمیت ٹیکسوں کے نفاذ اور قرضوں کے عوام پر منفی اثرات کی روک تھام کی جائے ،انہوں نے کہا کہ روزمرہ اشیا کی قیمتوں کو دو ماہ پہلے والی سطح پر لا کر منجمد کیا جائے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے اور مدینہ جیسی ریاست کو اب سودی کاروبار کے ذریعے چلایا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک دو ماہ میں ذلت کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے جس سے قوم کا وقار مجروح ہو رہا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضمنی ا الیکشن میں25جولائی والی ریہرسل نہ کی جائے ،فوج پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات نہ کی جائے،انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن متحد ہے، شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب کسی کے اشاروں پر احتساب کی بجائے انتقام لے رہا ہے ، اگر تحقیقات کیلئے شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو عمران خان ، علیم خان ، اور پرویز خٹک کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔