عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی بجٹ مسترد کر دیا 
نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکسوں میں اضافے سے غریب عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
حکومت نے اقربا پروری کی انتہا کرتے ہوئے صوبے کے محدود وسائل اپنوں میں تقسیم کر دیئے۔
صوبے کا حصہ ہونے کے باوجود قبائلی اضلاع کیلئے بجٹ مختص نہ کرکے کیا پیغام دیا گیا؟
الفاظ کے ہیر پھیر کو بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،تعلیم کیلئے کم پیسہ مختص کرنا تعلیم دشمنی ہے۔
حکومت نے اپنے سابق دور میں صوبے کو دیوالیہ کیا ،ملبہ کسی اور پر نہیں ڈالا جا سکتا۔سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی بجٹ مسترد کرتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ زیادتی قرار دیا ہے ، پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر و جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکسوں میں اضافے سے غریب عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی پسماندگی اور ضرورت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبے کے محدود وسائل اپنوں میں تقسیم کر دیئے ہیں،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کیلئے صوبے کا حصہ ہونے کے باوجود ان علاقوں کیلئے بجٹ مختص نہ کرکے کیا پیغام دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ، قبائلی اضلاع زیادہ توجہ کی مستحق ہے لیکن انہیں یکسر نظر انداز کرکے ناانصافی کا مظاہرہ کیا گیا ، الفاظ کے ہیر پھیر کو بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ تعلیم کیلئے کم پیسہ اور خصوصاً نئے تعلیمی اداروں کی تعمیر کیلئے رقم مختص نہ کرنا تعلیم دشمنی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے چھوٹی کاروباری سرگرمیوں پر ٹیکسوں کا نفاذ مہنگائی کے اس دور میں زیادتی ہے ،سردار بابک نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کیلئے قرضوں میں چھوٹ ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ کسی اور پر نہیں ڈال سکتی کیونکہ انہی کی پچھلی حکومت نے صوبے کو مالی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔