پشاور یونیورسٹی کے گرفتار طلباء کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اسفندیارولی خان
طلباء پر لاٹھی چارج اور بربریت کہاں کا انصاف ہے؟
موجودہ حکومت تعلیم اور تبدیلی کے دعوے کررہی ہے۔
طلباء کے ساتھ وحشیانہ سلوک کا بہت افسوس ہوا۔
زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
پولیس کا طلباء پر وحشیانہ تشدد ناقابل برداشت ہے۔
اس طرح کے واقعات کو دھرانا نہیں چاہئے۔
حکومت طلباء کے جائز مطالبات کے حل میں دلچسپی ظاہر کرے۔

طلباء پر تشدد: موجودہ حکومت نے مارشل لائی دور کی یاد تازہ کردی، میاں افتخارحسین
طلباء تنظیمیں بحال کرکے انہیں مستقبل میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے؟
موجودہ حکومت تعلیم اور تبدیلی کے دعوے کررہی ہے مگر عمل اس کے برعکس ہے۔
120 دنوں تک دھرنے دینے والوں سے قوم کے معماروں کا ایک احتجاج ہضم نہیں ہورہا۔
طلباء نے سیاسی جماعتوں کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑینگے۔
گرفتار طلباء کو فوری طور پر رہا کرکے ان کے جائز مطالبات کے حل میں دلچسپی ظاہر کی جائے۔

پشاور، () عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے پشاور یونیورسٹی میں طلباء اتحاد کے احتجاجی مظاہرے پر ہونے والے وحشیانہ تشدد اور گرفتاریوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ آج پیش آنے والے واقعات سے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھل گئی ہے کہ وہ اس ملک میں نوجوانوں کیلئے تعلیم کے بہتر مواقع اور فلاح کے راستے ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ آج حکومت کی ہر بات غلط ثابت ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور مہنگائی کے مارے فیسوں میں کمی اور رہائش سے متعلق مطالبات کیلئے جمہوری طور پر جدوجہد کرنے والے طلباء کے ساتھ وحشیانہ سلوک دیکھ کر بہت دکھ ہوا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ امرانہ رویئے کسی سیاسی جماعت کے شایاں شاں نہیں ہیں اور ان اقدامات نے مارشل لائی دور کی یاد تازہ کی ہے۔
میاں افتخارحسین نے کہا کہ اسلام آباد میں مسلسل ایک سو بیس دن تک دھرنے دینے والوں سے توقع یہ کی جاسکتی تھی کہ اقتدار میں آتے ہی وہ طلبہ تنظیمیں بحال کرلیں گے اور طلباء کے مسائل زیرغور لائے جائیں گے مگر صورتحال اس کے برعکس ہے اور ان سے قوم کے معماروں کا ایک احتجاج کیوں ہضم نہیں ہورہا؟انہوں نے کہا کہ طلباء تنظیموں نے ماضی میں سیاسی جماعتوں کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور ملکی سیاست کی نرسری کے طور پر ایسی قیادت فراہم کی ہے جس پر قوم کو ہمیشہ ناز رہے گالہذا حکومت فوری طور پر طلباء تنظیموں کو بحال کرکے انہیں مثبت رول ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور عمران خان طلباء تنظیموں کی اہمیت سے قطعاً نااشنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے فروغ اور تبدیلی کے کھوکھلے دعوں کے ساتھ اس کے برعکس عمل کررہی ہے۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پولیس کا حالیہ تشدد ناقابل برداشت ہے اور اس طرح کے واقعات کو دھرایا نہیں جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار طلباء کو فوری طور پر رہا کرکے ان کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے اور ان کے مطالبات پر غور کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے طلباء کو سرکاری سطح پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں۔