سانحہ یکہ توت کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، ثمر ہارون بلور

ہارون بلور کو مارنے والے سین پر نظر نہیں آئے ایف آئی آر کس کے خلاف درج کراتے؟

عوام نے ووٹ کے ذریعے بدلہ لے لیا، میری جیت دراصل ہارون بلور شہید کی فتح ہے۔

پاکستان میں سیاست کو گالی بنایا گیا، انتخابات میں تمام حکومتی مشینری ہمارے خلاف استعمال کی گئی ۔
عوام دو ماہ میں تبدیلی کی حقیقت جان گئے، الزامات لگانے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے۔
عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھاؤں گی۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی نو منتخب رکن اسمبلی اور شہید ہارون بلور کی بیوہ ثمر ہارون بلور نے سانحہ یکہ توت کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلی سمیت تمام فورمز پر اس کیلئے آواز اٹھائی جائے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے پارٹی قائدین ،عہدیداروں اور کارکنوں سمیت متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ کیا اور کہا کہ عوام اور پارٹی کارکنوں کی انتھک محنت پی کے78کی نشست جیتنے کا سبب بنی، انہوں نے کہا کہ پی کے78میں میری جیت دراصل ہارون بلور شہید کی فتح ہے، ہارون بلور کو مارنے والے سین پر نظر نہیں آئے ایف آئی آر کس کے خلاف درج کراتے،ثمر بلور نے کہا کہ عوام نے شہید ہارون بلور کے قتل کا بدلہ بیلٹ کے ذریعے لے لیا ہے ،انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تمام حکومتی مشینری ہمارے خلاف استعمال کی گئی اس کے باوجود عوام نے ضمنی الیکشن میں بلور خاندان پر اعتماد کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے اور میں اب بھی اپنے خاندان والوں کو دہشت گردی کا نشانہ سمجھتی ہوں ، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھاؤں گی ، انہوں نے کہا کہ حکومت دو ماہ میں بے نقاب ہو گئی ہے اور عوام جان چکے ہیں کہ الیکشن سے پہلے صرف جھوٹے اور فریبی نعرے لگائے گئے حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے ، انہوں نے کہا کہ مہنگائی ، ٹیکسوں میں اضافے اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے ،ثمر بلور نے کہا کہ لوگوں سے روزگار اور گھر دینے دعوے ہوا ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے، عوام سے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر ووٹ لے کر اب چندے بھی مانگے جا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ چکی ہیں اور اب عنقریب روٹی بھی غریب عوام کی دسترس سے باہر ہونے والی ہے۔