دھاندلی کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے مطالبات درست ہیں، میاں افتخار حسین
عمران نے دھرنے کے دوران دھاندلی کے حوالے سے من گھڑت مطالبات کئے تھے۔
جن چار حلقوں کیلئے دھرنا دیا گیا وہ آج بھی مسلم لیگ ن کے پاس ہیں۔
ٍٍ فوج اور پولیس اہلکاروں کا پولنگ سٹیشنز کے اندر کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔
عام انتخابات میں نتائج تبدیل کرنے والی قوتوں پر ضمنی الیکشن میں عوامی پریشر تھا۔
قبروں کے ٹرائل سے پہلے زندہ لوگوں کا بلا امتیاز احتساب ضروری ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی انگوٹھوں کی تصدیق ،نتائج کو روکنے اور فوج کی تعیناتی کے پہلوؤں سے سے تحقیقات کا آغاز کرے گی ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے عام انتخابات اور ضمنی الیکشن میں پولنگ سٹیشنوں کے اندر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوج اور پولیس کو اپنی ڈیوٹی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے پولنگ سٹیشن کے اندر ان کی موجودگی کوئی معنی نہیں رکھتی،انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے عام انتخابات میں نتائج تبدیل کئے انہوں نے ضمنی الیکشن میں بھی وہی کوششیں کیں تاہم بعض حلقوں میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے،انہوں نے کہا کہ عوام کے پریشر اور بیداری کے باعث دھاندلی کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں ا بتر سیاسی راوایت کی خاطر عمران خان کو پی کے78پر اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرنا چاہئے تھا ،انہوں نے کہا کہ ملک میں زندہ لوگوں کا احتساب نہیں ہو سکا اور اب مردوں کے احتساب کے حوالے بازگشت تعجب خیز ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتی ہے اور اگر احتسابی عمل ماضی سے شروع ہوا تو اے این پی کا اپنے اکابرین کے کردار کی وجہ سے مزید بول بالا ہوگا۔