حکومت6ہزار سے زائد اسامیاں ختم کرنے کی وضاحت کرے،سردار حسین بابک
آسامیاں خالی پڑی تھیں تو اس سے خزانے کو ایک ارب کی بچت کسطرح ہوسکتی ہےْ؟
حکومتی اقدام سے ایک کروڑ بیروزگاروں کو روزگار دینے کا وعدہ دم توڑگیاہے۔
تبدیلی آشکارا ہوتی جا رہی ہے،حکمران عوامی مشکلات میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے سابق دور حکومت میں صوبے کو کئی سو ارب کا مقروض کر دیا ۔
پٹرول،گیس اور بجلی کے نرخوں میں روزانہ اضافے نے غریب عوام کو ذہنی مریض بنادیاہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری محکموں میں 6500 آسامیاں ختم کرنے کے فیصلے کو روزگار دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقدام سے پی ٹی آئی کے منشور میں ایک کروڑ بیروزگاروں کو روزگار دینے کا وعدہ دم توڑگیاہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد تبدیلی سرکار کے قول و فعل میں تضاد بچے بچے پر آشکارہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ یہ آسامیاں کیوں ختم کی جارہی ہے؟،ایک طرف روزگار دینے کے وعدے اور دوسری طرف روزگار چھیننے کے فیصلے ان کی تبدیلی ہے۔انہوں نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ اگر یہ ساڑھے چھ ہزار آسامیاں خالی پڑی تھیں تو اس سے خزانے کو ایک ارب کی بچت کسطرح ہوسکتی ہے،لہذا عوام کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے بجائے عوام کو حقیقت بتائی جائے اور مشکلات میں اضافے کی بجائے مشکلات کو کم اور ختم کرنے کیلئے اپنے کام پر توجہ دے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ مالی طور پر دیوالیہ ہے،تبدیلی سرکار نے اپنے پچھلے دور حکومت میں صوبے کو کئی سو ارب کا مقروض بنایا ہے اور ہرسال اُس قرضے پر سود ادا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں ترقیاتی عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے،بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور تبدیلی سرکار کی مرکزی حکومت پٹرول،گیس اور بجلی کے نرخوں میں روزانہ اضافے نے غریب عوام کو ذہنی مریض بنادیاہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے صوبے میں کسی ایک منصوبے کیلئے بجٹ مختص نہ کرنا خیبر پختونخواکے ساتھ زیادتی ہے،قبائیلی اضلاع کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا صوبے کے بجٹ میں ذکر نہ ہونا ظلم اور زیادتی ہے۔