حکومت وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، زاہد خان
سعودی عرب کے ساتھ ڈیل کی شرائط واضح کرکے قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
9ارب ڈالر کے قرضے سے قوم مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گی۔
قرضے ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لینا آنے والی نسلوں اور پالیسی سازی گروی رکھنا ہے۔
امداد یا قرضوں کی حصولی کیلئے شرائط میں دوست ہمسایہ ملکوں کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہئے۔
وزیراعظم کے دورے سے کئی سوالات جنم لے چکے ہیں، پارلیمان میں بحث کی جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے سعودی عرب کی جانب سے حکومت کو امداد کی یقین دہانی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سعودی عرب کے ساتھ ڈیل کی شرائط پارلیمنٹ میں پیش کرے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کرے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت وضاحت کرے کہ قرضہ کن شرائط پر حاصل کیا جا رہا ہے اور کیا اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟انہوں نے کہا کہ 9ارب ڈالر کے قرضے سے قوم مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گی اور مہنگائی کی ایک نئی لہر سر اٹھائے گی جبکہ قرضے ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لینا آنے والی نسلوں اور پالیسی سازی گروی رکھنا ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی پروگرام اور وژن نہیں ہے اور اس ناتجربہ کاری اور غیر سنجیدگی کا اثر براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے ، زاہد خان نے کہا کہ حالات جیسے بھی ہوں امداد یا قرضوں کی حصولی میں دوست ہمسایہ ملکوں کے مفادات کا خیال رکھا جانا چاہئے اور اس سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ خطے میں موجود دیگر ہمسایہ ممالک پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد قوم ذہنی کرب میں مبتلا ہے اور آئے روز حکومتی غفلت و دشمن پالیسیوں سے متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت دورہ سعودی عرب اور قرضوں کے حصول کی شرائط پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور قوم کو تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے سے کئی سوالات جنم لے چکے ہیں تاہم ان معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہئے اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر کوئی خارجہ پالیسی بننی چاہئے۔