اے این پی احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی مخالفت کرے گی، ایمل ولی خان
صوبے کو اقتصادی بد حالی اور بے روزگاری کا سامنا ہے،وزراء و وزیر اعلیٰ کنفیوژن کا شکار ہیں۔
ملکی سطح پر احتساب کا نام نہاد نعرہ بلند کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔

احتساب کمیشن پر قوم کے اربوں روپے خرچ کر اس ادارے کو بند کر دیا گیا۔
دو ماہ میں غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھیننا کسی صورت میں بھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ڈرامے بند کرکے عوامی خدمت پر توجہ دیں۔
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے کو بد انتظامی ،اقتصادی بد حالی اور بے روزگاری کا سامنا ہے جبکہ صوبے کے وزراء اور سیلیکٹڈ وزیر اعلیٰ اپنے سیاسی مستقبل اور کرسیوں کے حوالے سے تاحال کنفیوز ہیں ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کی صورت میں صوبے اور عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہے اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ یہ سب کسی مخصوص اشارے پر کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر احتساب کا نام نہاد نعرہ بلند کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے ،احتساب کمیشن پر خیبر پختونخوا کے غریب عوام کے کروڑوں روپے خرچ کیے جاچکے ہیں،ان کروڑوں روپے کا حساب کون دیگا؟ احتساب کمیشن کے نام سے وجود میں آنے والے ادارے کے ذریعے گزشتہ پانچ سال ڈرامے کیے گئے جبکہ اب اُسی ادارے کو ختم کردیا گیا ہے،ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل محض سیاسی مخالفین اور سیاستدانوں کو ڈرانے اور بدنام کرنے کیلئے جاری ہے،انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کبھی بھی سیاسی انتقام والا احتساب نہیں ہونے دیگی۔ایمل ولی خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت نے پانچ سال مسلسل کوشش کی کہ عوامی نیشنل پارٹی کے قیادت پر کرپشن کے کیسسز بنائے،لیکن اُن کو جواب میں یہی کہا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں صوبے کی خدمت ہوئی ہے نہ کہ کرپشن،انہوں نے وفاقی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ڈرامے بند کرکے عوامی خدمت پر توجہ دیں کیونکہ حکومت کے پہلے دو ماہ ہی میں غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھیننا کسی صورت میں بھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔