انصاف کا نظام نہیں رہا، حکومت ایک سال سے زیادہ چلتی دکھائی نہیں دے رہی، میاں افتخار حسین
احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری ہے،وزیر اعظم بنی گالہ میں ناجائز اراضی قبضہ کے بعد صادق و امین نہیں رہے۔
ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے دو ماہ میں روزگار چھیننے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔
حکومت نے ایک ماہ میں دو برادر ملکوں کو ناراض کیا ، چین و سعودی عرب پہلے قرضہ دینے سے انکارکرچکے تھے ۔
مزدور کش روش ترک کی جائے ،یوٹیلٹی سٹور ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کس کے اشارے پر کیا جا رہا ہے۔
کشکول میں خیرات ملنے پر خوشیاں منانے والے ملک کے خیر خوا ہ نہیں ہو سکتے۔ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام ختم ہو چکا ہے اور احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا دور دورہ ہے، کشکول میں خیرات ملنے پر خوشیاں منانے والے ملک کے خیر خوا ہ نہیں ہو سکتے ،وزیر اعظم بنی گالہ میں ناجائز اراضی قبضہ کے بعد صادق و امین نہیں رہے لہٰذا وہ نااہل ہو چکے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ڈی چوک اسلام آباد میں یوٹیلٹی سٹور کے ملازمین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ حکومت مزدور کُش پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے دو ماہ میں روزگار چھیننے کے سوا کوئی کام نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پر خود کشی کو ترجیح دینے والے وزیر اعظم نے سب سے بڑا یو ٹرن لیا اور بھیک مانگنے کیلئے آئی ایم ایف کا رخ کر لیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ تین ماہ تک کسی ملک کا دورہ نہیں کریں گے لیکن چور دروازے سے آنے والے وزیر اعظم نے تین ماہ میں تین ممالک کا دورہ کیا اور بھیک مانگنے کیلئے منتیں کرتے رہے، حکومت نے ایک ماہ میں دو برادر ملکوں کو ناراض کیا اور چین و سعودی عرب نے قرضہ دینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے چین کو منانے کی کوشش بھی کی لیکن اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ،انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اپنا کام چھوڑ کر ڈیم کی تعمیر میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں سائلین انصاف سے محروم ہو چکے ہیں ، ملک میں انصاف کا نظام نہیں رہا اور عوام انصاف کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹور کے ملازمین کیلئے حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے لیکن پہلے وضاحت کی جائے کہ یہ سب کس کے اشارے پر کیا جا رہا ہے، اے این پی یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم ہونے تک حمایت جاری رکھے گی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ نعیم الحق نے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن یہ لوگ یوٹرن کے ماسٹر ہیں جب تک تحریری طور پر ایگزیکٹو آرڈر جاری نہ ہو یقین نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے کہا وفاقی حکومت ملازمین کو بے روزگار کرنے کی روش ترک کرے،انہوں نے کہا کہ غریب کے چولہے ٹھنڈے کرنے والی حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتی ،انہوں نے کہا کہ بنی گالہ میں اراضی پر ناجائز قبضہ سے گھر تعمیر کرنے والا صادق و امین کیسے ہو سکتا ہے لہٰذا وزیر اعظم نااہل ہو چکا ہے اور اب اسے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے۔
قبل ازیں پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین کی کاوشوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ میاں افتخار حسین نے تحریک میں اپنے بیٹے کی قربانی دے کر ثابت کیا ہے کہ اے این پی عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔