الیکشن کی شفافیت بارے وضاحتوں نے مزید سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، زاہد خان

آئی ایس پی آر کا بیان نا مناسب ہے ، الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

ملک کے22کروڑ عوام 25جولائی کے متنازعہ الیکشن کی حقیقت سے با خبر ہیں۔

تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو مسائل کبھی جنم نہ لیں۔

ضمنی الیکشن سے قبل وضاحت کس جانب اشارہ کر رہی ہے،وزیر اطلاعات کے بیان پر وضاحت چاہئے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان نے الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے بیان پر حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 22کروڑ عوام 25جولائی کے انتخابات میں دھاندلی سے با خبر ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ الیکشن کسی صورت شفاف اور غیر متنازعہ تھے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کا اہم ستون الیکشن کی شفافیت بارے صفائی دے رہا ہے جو ایک ناپسندیدہ بیان ہے ، انہوں نے کہا کہ انتخابات کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر انگلیاں اٹھ چکی ہیں لہٰذا فوج کا الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے بیان دینا نامناسب ہے،انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو مسائل کبھی جنم نہ لیں ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک اہم ادارہ ناپسندیدہ شخص کو صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ جاری کر چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاست میں مداخلت اداروں کا کام نہیں اور ضمنی الیکشن سے صرف ایک روز قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت نے ضمنی الیکشن کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ،انہوں نے گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فواد چوہدری اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہماری پشت پر فوج اور عدلیہ موجود ہے،اے این پی سمجھتی ہے کہ اس حوالے سے وضاحت سامنے آنی چاہئے کیونکہ متنازعہ بیان سے شکوک و شبہاٹ میں مذید اضافہ ہو چکا ہے۔