الیکشن کمیشن فوج تعیناتی بارے اپنی مجبوری کی وضاحت کردے، میاں افتخار حسین
کیا ملک کی پولیس اس قابل بھی نہیں کہ وہ35حلقوں کا الیکشن پر امن طور پر کراسکے؟
ہماری مخلصانہ خواہش ہے کہ ادارے متنازعہ نہ ہوں اور تمام ملکی اداروں کا وقار بحال رہے۔
اے این پی کے فتحیاب امیدوار اور پارٹی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں۔
الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان تعجب خیز ہے۔
حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے ا ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔
ضمنی الیکشن میں عوامی پریشر نے دھاندلی کرنے والوں کا راستہ مسدود کیا۔
اے این پی کی حمایت پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو سلام پیش کرتے ہیں۔میڈیا سے بات چیت

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ضمنی الیکشن میں اے این پی کے امیدواروں کی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ،کارکنوں اور اے این پی کے عہدیداروں و کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے ، بلور ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے شہید بشیر بلور اور ہارون بلور شہید کی شہادت کی لاج رکھی اور ثمر ہارون بلور کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا،انہوں نے کہا کہ سوات سے اے این پی کے امیدوار کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنا اعتماد کھو چکی ہے اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ موجودہ حکومتیں ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتیں،انہوں نے کہا کہ مردان میں اے این پی کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ،الیکشن کمیشن بتائے کہ کس کے کہنے پر نتیجہ تبدیل کر دیا گیا،میاں افتخار حسین نے استفسار کیا کہ کیا ہماری پولیس اس قابل نہیں کہ صرف35حلقوں کا الیکشن کرا سکے ، الیکشن کمیشن کو فوج بلانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہماری مخلصانہ خواہش تھی کہ ادارے متنازعہ نہ ہوں اور تمام ملکی اداروں کا وقار بحال رہے،الیکشن کمیشن اس حوالے سے مسلسل ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اگر ایسی کوئی مجبوری ہے تو اسے وضاحت کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنا اعتماد کھو چکا ہے ، ملک میں کبھی بھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے تاہم25جولائی کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور سٹیبلشمنٹ کی کھلم کھلا مداخلت کا بھانڈا پھوٹ گیا،انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی کی ریہرسل کی جانی تھی لیکن کم حلقوں اور پریشر ڈیویلپ ہونے کی وجہ سے مخصوص قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ الیکشن کا نظام تبدیل کیا جائے اور حقیقی عوامی نمائندگی کا احترام کیا جانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ 25جولائی کو تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی اور اس کے نتیجے میں عمران کو22کروڑ عوام پر زبردستی مسلط کرکے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران کو لانے والے نہیں جانتے کہ ملک کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی،انہوں نے کہا کہ الیکشن کی شفافیت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان تعجب خیز ہے جبکہ الیکشن کے دھاندلی زدہ ہونے میں دو رائے نہیں ، ملک کی تاریخ میں25جولائی کو بدترین دھاندلی کی گئی اور فوجی اہلکار اس میں براہ راست ملوث تھے ، انہوں نے کہا کہتمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی گئی اور صرف مخصوص پارٹی کو اقتدار سونپنے کیلئے تمام حربے استعمال کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا عمران پر اعتماد نہیں کر رہی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعظم عوام کا منتخب نمائندہ نہیں،انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی کا حق شفاف ہو تو ملکی معاملات بہتر انداز میں چل سکتے ہیں۔