احتساب کی خبر گردی قرضوں کی بھرمار سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے،ایمل ولی خان
طویل عرصہ سے ملک میں تبدیلی کے دعویداروں کو تبدیلی کا عمل اپنے گھر سے شروع کرنا چاہئے تھا۔
کرپشن کا پہاڑ کھودا گیا حکومتی لاڈلے اور رشتہ دار ہی نکلے ،ملک میں احتساب کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔

سوئس بنکوں کے دو سو ارب ، پانامہ سکینڈل کے باقی کرداروں اور دبئی سکینڈل پر رپورٹ پیش کی جائے۔
اسفندیار ولی خان کا نام اچھالنے والے محرکات ججوں، جرنیلوں اور خانموں پر خاموش کیوں ہیں؟
جھوٹ اور فریب سے اقتدار تک پہنچ کر غریب عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے وزیر اعظم کی ہمشیرہ کی بیرون ملک بے نامی جائیدادوں اور اثاثوں کی رپورٹ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ طویل عرصہ سے ملک میں تبدیلی کے دعویداروں کو تبدیلی کا عمل اپنے گھر سے شروع کرنا چاہئے تھا جن کے اپنے ہاتھ کرپشن میں رنگے ہوں وہ دوسروں کے احتساب کا دعوی کیسے کر سکتا ہے، دبئی سکینڈل پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی کرپشن کا پہاڑ کھودا گیا حکومتی لاڈلے اور رشتہ دار ہی نکلے ،انہوں نے کہا کہ احتساب کو ملک میں مذاق بنا دیا گیا ہے اور حکمران اپنی ڈوبتی کشتی بچانے کیلئے صرف سیاسی انتقام کے درپے ہیں اور احتساب احتساب کی خبر گردی میں قرضوں کی بھرمار سے قوم کی توجہ ہٹائی جا رہی ہے،ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ سوئس بنکوں کے دو سو ارب ، پانامہ سکینڈل کے باقی کرداروں اور دبئی سکینڈل پر رپورٹ پیش کی جائے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کئی سال پہلے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر چکے ہیں لیکن اسفندیار ولی خان کا نام اچھالنے والے محرکات ججوں، جرنیلوں اور خانموں پر خاموش کیوں ہیں؟، انہوں نے کہا کہ صفائی اور احتساب کا عمل اب وزیر اعظم کے گھر سے شروع کیا جائے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر بلا امتیاز احتساب کا عمل یقینی بنایا جائے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قوم کو جن کھوکھلے نعروں اور فریبی دعوؤں سے ورغلایا گیا وہ کپتان کو زیب نہیں دیتے تھے ،جھوٹ اور فریب سے اقتدار تک پہنچ کر غریب عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم خود کرپٹ مافیا کے حصار میں ہیں۔