یوٹرن والے کو لیڈر تسلیم کرنا تو کیا لوگ ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے، حاجی غلام احمد بلور
سیاست ملک و قوم کی خدمت کا نام ہے ، یوٹرن لینے والوں کو صرف ذاتی مفادات مقدم ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یوٹرن لینے والے کو لوگ نہ دین اور نہ ایمان جیسے القابات دیتے ہیں ۔
اخلاقیات میں سب سے کمتر انہیں جانا جاتا ہے جو اپنی زبان پر قائم نہیں رہتے۔
تمام با اصول سیاستدانوں نے اصولی سیاست کی اور کبھی اپنے ارادے متزلزل نہیں ہونے دیئے۔
سیاست میں یوٹرن کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا قوم کو گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام مرکزی صدر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ سیاست ملک و قوم کی خدمت کا نام ہے اور اس کیلئے با اصول ہونا ضروری ہے ، یوٹرن لینے والوں کو صرف ذاتی مفادات مقدم ہوتے ہیں وہ قوم اور انسانیت کی خدمت کا ادراک نہیں کر سکتے ، وزیراعظم کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یوٹرن لینے والے کو لیڈر تسلیم کرنا تو کیا لوگ ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے،ہمارے معاشرے میں یوٹرن لینے والے کو لوگ نہ دین اور نہ ایمان جیسے القابات دیتے ہیں ۔ا نہوں نے کہاکہ اخلاقیات میں سب سے کمتر انہیں جانا جاتا ہے جو اپنی زبان پر قائم نہیں رہتے اور عمران خان نے سیاست میں جھوٹ ،فریب،بے ایمانی اور دغا بازی کو فروغ دیا، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ماضی میں جتنے بھی بلند پایہ سیاستدان گزرے وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور اسی جرات اور بہادری کی وجہ سے وہ تاریخ کا حصہ ہیں جبکہ یوٹرن لینا کسی سیاستدان کا وطیرہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں ناکامی کے بعد یوٹرن کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ بداخلاقی اور گالم گلوچ کی سیاست کے بعد اب عمران خان قوم کو زوال کی طرف دھکیل رہا ہے اور دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ یوٹرن کی سیاست سے پہلے سو دن مکمل ہوتے ہیحکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائیگی ،انہوں نے کہا کہ قائد اعظم سمیت تمام با اصول سیاستدانوں نے اصولی سیاست کی اور کبھی اپنے ارادے متزلزل نہیں ہونے دیئے ،اصولی سیاست کی راہ میں کئی رکاوٹیں اور صعوبتیں ہیں جن سے عمران خان گھبراتے ہیں اور اسی وجہ سے یوٹرن کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ یوٹرن لینے والی کبھی سیاستدان ہو ہی نہیں سکتا۔حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ سیاست میں یوٹرن کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا قوم کو اس حوالے سے گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔