کرشنگ سیزن میں تاخیر، حکومت نے شوگر ملز مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں،ایمل ولی خان
کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے ، تاخیری حربوں سے اربوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
زیادہ تر سیاستدان بھی شوگر ملز مالکان ہیں جو کم ریٹ پر گنا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
زراعت کو تباہی کے دھانے تک پہنچا دیا گیا،کسانوں کو معاشی طور پر ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔
بیج ،کھاد اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی بھرمار نے کسانوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حیلے بہانوں اور تاخیری حربوں کی بجائے کرشنگ سیزن جلد از جلد شروع کرایا جائے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے شوگر ملز مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور گنے کی کرشنگ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو چکی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کرشنگ سیزن میں مسلسل تاخیر سے کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے جبکہ ان تاخیری حربوں سے اربوں روپے کے نقصان کا بھی اندیشہ ہے ، انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت ابھی تک زرعی پالیسی کا اعلان نہیں کر سکی جبکہ زیادہ تر سیاستدان بھی شوگر ملز مالکان ہیں جو کم ریٹ پر گنا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں،انہوں نے کہا کہ بیج ،کھاد اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی بھرمار نے کسانوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ گزشتہ سال بھی کرشنگ سیزن میں تاخیر سے نقصانات کا سارا بوجھ غریب کسانوں پر ڈالا گیا جبکہ امسال 15نومبر کو اعلان کردہ کرشنگ تاحال شروع نہیں کی جا سکی،انہوں نے کہا کہ شوگر ملز مافیا کسانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ،مسلط حکومت اپنے ہی کئے گئے اعلان پر عملدراآمد نہیں کرا سکتی، شعبہ زراعت کو تباہی کے دھانے تک پہنچا دیا گیاہے اور کسانوں کو معاشی طور پر ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے ،حکومت اپنی رٹ قائم کرے اور فوری طور پر کرشنگ سیزن کو شروع کیا جائے،ایمل خان نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ متعلقہ ایشو وفاقی حکومت کے زیر انتظام آتا ہے اور اگر ایسا ہے تو وفاق میں بھی انہیں کی حکومت ہے ، انہوں نے کہا کہ حیلے بہانوں اور تاخیری حربوں کی بجائے کرشنگ سیزن جلد از جلد شروع کرایا جائے تاکہ غریب کسانوں کو مزید مالی نقصانات سے بچایا جا سکے۔