پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ عوام کو مسلسل ذہنی کوفت میں مبتلا رکھنے کے مترادف ہے،زاہد خان
پٹرول 5 روپے اور ڈیزل کے نرخوں میں 6روپے اضافہ کرنا عوام پر ڈرون حملہ ہے۔
حکومت کے غلط فیصلوں سے صنعتکار، تاجر ، سرمایہ دار ، مزدور ، کسان اورتنخواہ دار طبقہ نا لاں نظر آرہاہے۔
بے لاگ احتساب کے ذریعے ہی ملک کے معیشت کو سہارا دیا جاسکتا ہے۔
نیب کے جاری کردہ ناموں میں اے این پی کے ایک پارلیمانی رکن کا نام بھی نہیں آیا،ہمیں اپنی قیادت پر فخر ہے۔
حکومت پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہاہے کہ حکومت کابجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرناناقابل فہم اور عوام کو مسلسل ذہنی کوفت میں مبتلا رکھنے کے مترادف ہے،پٹرول 5 روپے،ڈیزل 6 روپے37 پیسے،مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے اور لائٹ ڈیزل کے نرخوں میں 6روپے 48پیسے اضافہ کرنا عوام پر ڈرون حملہ ہے ، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے بجائے معاشی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اس وقت عملاً تمام سیکٹرز میں ترقی کا عمل رک چکاہے حکومت کے غلط فیصلوں سے صنعتکار، تاجر ، سرمایہ دار ، مزدور ، کسان ، تنخواہ دار طبقہ نالاں نظر آرہاہے۔انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے بھی غریب آدمی زندہ در گور ہوگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور حکومت نے دو ماہ کے قلیل عرصہ میں ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے،انہوں نے کہا کہ سنجیدہ پالیسیوں کے بغیر پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے، الزامات لگانے اور ملک چلانے میں فرق ہے ۔زاہد خان نے کہاکہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے اس وقت آزادی نصیب ہوگی جب بے لاگ احتساب ہو جس کے حوالے سے عمران خان الیکشن سے قبل بلند و بانگ دعوے کرتے رہے ہیں،نیب کی جانب سے 71 سیاستدانوں کے جو نام جاری کیے گئے ہیں اُن میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک پارلیمانی رکن کا نام بھی نہیں آیا جو کہ ہمارے ورکرز کیلئے باعث فخر ہے اور اب ہمارے مخالفین کو بھی یہ یقین ہوچلا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو ایک منصوبہ بندی کے تحت بدنام کیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیں کیونکہ ایک طرف ملک کی حالات نے غریب عوام سے نوالہ چھین لیا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی اقدامات اور فیصلوں کیوجہ سے غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہورہا ہے۔