نیب کا امتحان ہے،کرپشن کے مخالفین 64ارب سے زائد ڈکار گئے،امیر حیدر خان ہوتی
آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں میں ملوث کالی بھیڑوں کی نشاندہی ضروری ہے۔
احتساب کے نام پر عوام کو ورغلانے والوں نے صوبے کے خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا۔
صوبائی حکومت کے سابق دور میں اقربا پروری کی بنیاد رکھی گئی، پنجاب کے چہیتوں کو نوزا گیا۔
ریکوری کی مد میں وصول ہونے والے اربوں روپے خرد برد کرنے والوں کا احتساب شروع کیا جائے ۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا سمیت صوبے کے دیگر اہم محکموں میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتسابی اداروں کیلئے امتحان شروع ہو گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ ان بے قاعدگیوں کے پیچھے چھپی کالی بھیڑیں کب بے نقاب ہونگی، اپنے بیان میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اور احتساب کے نام پر عوام کو ورغلانے والوں نے صوبے کے خزانے کو 64ارب سے زائد کا ٹیکہ لگا دیا اور کسی بھی محکمے کو نہیں چھوڑا ، انہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ کے زیر انتظام اسلحہ لائنسنس کے اجرا اور تجدید کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ پولیس کیلئے گاڑیاں اور دیگر سازوسامان مہنگے داموں خرید کر خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ خوراک کا ستیا ناس کر دیا گیا اور سب سے زائد15ارب کی کرپشن اس محکمے میں کی گئی ،انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں اقربا پروری کی بنیاد رکھی گئی اور خیبر پختونخوا کے وسائل سے پنجاب کے چہیتوں کو نوزا گیا جس کا واضح ثبوت لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت مختلف دیگر منصوبے ہیں جن کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر کے جاری کئے گئے ،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی حکومت کے گزشتہ اور موجودہ دور میں ہونے والی کرپشن کی فہرستوں پر احتسابی ادارے کیوں خاموش ہیں ، انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والی کرپشن اور بے قاعدگیوں پر نیب کو حرکت میں آنا چاہئے اس سے قبل کہ اسے بھی احتساب کمیشن کی طرح تالے لگ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکوری کی مد میں وصول ہونے والے اربوں روپے ڈکارنے والوں کا احتساب شروع کیا جائے ۔