نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ لاہور کی طرف ہے، زاہد خان
پشاور بی آر ٹی میں ہونے والی کروڑوں کی خرد برد اور بد انتظامی سے چشم پوشی اختیار کی گئی ہے۔
گردو غبار کے طوفان سے بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں لیکن دونوں ادارے اس حوالے سے خاموش ہیں۔

شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ،صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
صوبے کو مزید مقروض کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں، احتسابی ادارے نوٹس لیں۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ چیئرمین نیب اور چیف جسٹس کی توپوں کا رخ صرف لاہور کی طرف ہے اور پشاور میں بی آر ٹی میں ہونے والی کروڑوں کی خرد برد اور بد انتظامی سے انہوں نے کیوں چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے ستائے عوام ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ سردی میں بی آر ٹی کے باعث گردو غبار کے طوفان سے بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں لیکن دونوں ادارے اس حوالے سے خاموش ہیں جس کی وجہ سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ،زاہد خان نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ،اور حکمران عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر سب اچھا کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت نے صوبے کو 366ارب روپے کا مقروض کر دیا جبکہ اس بار مزید قرضوں کیلئے ہاتھ پھیلانے کی تیاری کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ احتسابی ادارے اور عدالت عظمی کے چیف جسٹس بد عنوانیوں کا نوٹس لیں۔