ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے اشاروں پر بنائی جا رہی ہے، زاہد خان
آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے بعدمہنگائی کی شرح میں مزید 40فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔
بجلی سبسڈی ختم کرنے سے صارفین پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا ۔
تین روپے سے زائد فی یونٹ اضافے سے مہنگائی کا نیا سونامی آئے گا۔
عمران خان کی ٹیم میں نااہلی ہے۔ حکومت کا 100روزہ ایجنڈا سیاسی گفتگو ثابت ہوا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے بجلی کی قیمتوں میں مزید ممکنہ اضافے کو حکومتی ٹیم کی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور چین کے بعد حکومت آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں جا بیٹھی ہے اور مہنگائی کے حوالے سے آئی ایم ایف کا دباؤ قبول کرنا شروع کر دیا ہے ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ٹیم میں نااہلی ، بدانتظامی اور بدنیتی ہے۔ حکومت کا 100روزہ ایجنڈا سیاسی گفتگو ثابت ہواجبکہ 70روزہ کارکردگی میں صرف بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سارا زور لگایا گیا ، انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھی جا رہی ہے ،ملک میں مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ حکومت ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90ڈالر سے کم ہوکر70ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، زاہد خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی سبسڈی ختم کرنے سے صارفین پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا جس کا حکومت کو ادراک نہیں ، انہوں نے کہا کہ بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور تین روپے سے زائد فی یونٹ اضافے سے مہنگائی کا نیا سونامی آئے گا ، پی ٹی آئی کے سونامی نے عوام کو مہنگائی کی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے زندگی گزارنا محال ہو گیا ہے۔ بجلی کے نرخوں کے نئے سلیب جاری ہونے کے بعد عوام سمیت تمام شعبوں کیلئے بجلی مہنگی کر دی گئی ہے جس سے ہر طبقہ پریشان ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے دباؤ میں آنے کی بجائے معاشی اپالیسی سازوں کی خدمات حاصل کرے، آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے بعدمہنگائی کی شرح میں مزید 40فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس سے غریب آدمی زندہ درگورہو جائے گا۔