عمران خان اینڈ کمپنی کی مثال علی بابا چالیس چور کی ہے،زاہد خان
حکومت سو روزہ پلان کے عمل درآمد میں ناکام رہی۔
اخبارات میں سو روزہ پلان کا اشتہار لگا کر کسی کو کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔
عمران خان بتائیں کہ سو دن میں ملک کی خوشحالی ، ترقی اور عوام کی بھلائی کے لئے کیا کیا؟
لوگوں کو معاشی طور پر اتنا کمزور کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے چولھے بھی نہیں جلا سکتے۔
سو روز میں اداروں نے سیاسی جماعتوں کو مزید باور بھی کرایا کہ لاڈلہ اْن کا اپنا ہے۔
لاڈلے کو نہ نیب کی فکر ہے نہ ہی لاڈلے کو عدلیہ سے کوئی ڈر ہے۔

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ جو حکومت سو روز میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں نہیں بنا سکی وہ عوام کو کیا ریلیف دے گی، عمران خان نے عوام سے سو دن میں ملک کو بدلنے کے وعدے کیے تھے عمران خان بتائیں کہ سو دن میں ملک کی خوشحالی ، ترقی اور عوام کی بھلائی کے لئے کیا کیا،باچا خان مرکز پشاور سے جاری کردہ اپنے بیان میں زاہد خان کا کہنا تھا کہ جس حکومت نے اب تک قائمہ کمیٹیاں قائم نہیں کیں۔ اندازہ کریں کہ وہ عوام کے لیے کیا قانون سازی کرے گی؟ سو دن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے عوام پر بے پناہ بوجھ ڈال دیا ،سو دن میں پیڑول ، گیس ، بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام پر بوجھ ڈالا، روزگار دلانے کے وعدے کرنے والے آج اگر ایک طرف غریب عوام سے روزگار چھین رہی ہے تو دوسری طرف لوگوں کو معاشی طور پر اتنا کمزور کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے چولھے بھی نہیں جلا سکتے،جمہوری حکومت اقتدار میں آکر اپنا پروگرام بناتی ہے کہ وہ عوام کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے،عمران خان نے ویسے ہی جھوٹے وعدوں اور دعوؤں پر عوام کو گمراہ کیا تھا،جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ بھی دیا تھا وہ سو دن بعد ہی کسی کو فخریہ طور پر نہیں کہہ سکتا کہ وہ پی ٹی آئی ممبر یا سپورٹر ہے، خیبر پختوانخوا کے احتساب کمیشن پر 1ارب خرچ کیے گئے اور اب کمیشن پر تالا لگا دیا گیا،آئی جی کے تبادلوں اور شریف خاندان کے کسی ایک غلطی پر سوموٹو لینے والوں نے آخر کیوں خیبر پختونخوا کے احتساب کمیشن کے حوالے سے از خود نوٹس نہیں لیا ،اداروں نے ان سو دنوں میں سیاسی پارٹیوں پر اور بھی واضح کردیا کہ عمران خان اصل معنوں میں اْن کا لاڈلہ ہے، لاڈلے پر نہ نیب ہاتھ ڈال رہا ہے نہ عدلیہ، جس طرح جنرل مشرف نے نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا موجودہ حکومت اس ہی طرح نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے، حکومت کو سو دن کے پلان میں کامیابی نہیں ناکامی حاصل ہوئی ہے موجودہ حکومت بیروکریسی کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے ، ماضی میں وہ کسی حکومت نے نہیں کیا موجودہ حکومت کا جس کو دل کرتا ہے اٹھا کر پھینک دیتی ہے حکومت نے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات سے ہونے والے معاہدے یا ملنے والی امداد پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا عمران خان کی حکومت کے سو دن میں ڈالر کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں ابھی تک معلوم نہیں ہو رہا کہ ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لے رہے ہیں یا نہیں عمران خان کی حکومت کے سو دن میں پاکستان کو ریورس گئیر لگ گیا ہے عوام بے روزگار ، بے گھر ہو رہے ہیں، لوگ رو رہے ہیں اور وزیر اعظم ہیلی کاپٹر اور جہازوں میں پھر کر بیرون ملک دورے کر رہا ہے، عمران خان اینڈ کمپنی کی مثال علی بابا چالیس چور کی ہے،علی بابا کی کہانی میں چوروں کا سردار خود تھوڑی چوری کرتا تھا چالیس چور چوریاں کرتے تھے ،عمران خان چوروں کے سربراہ ہیں عمران خان خود بیٹھے ہیں اور ان کے چور کام پر لگے ہیں چوری کا جو مال غنیمت ملتا ہے ، عمران خان اسے استعمال کر رہا ہے۔