طاہر داوڑ کے قاتلوں کو محفوظ راستہ دینے والے خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی ضروری ہے، ایمل ولی خان

ڈی پی او پاکپتن اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلوں پراور طاہر داوڑ پر خاموشی سے خدشات جنم لے رہے ہیں ۔

پشتون قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر کرنا اور اب پختون افسران کو راستے سے ہٹانا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

شہریار آفریدی صرف مہرہ ہے جس نے انتہائی حساس معاملے پر لوگوں کو گمراہ کیا۔

طاہر داوڑ کے قتل نے سیکیورٹی اداروں کے کردارپر بھی سوالات اُٹھا دیے ہیں۔

واقعے کی تحقیقات کیلئے شہید ایس پی کے بیٹے کی خواہش کو مد نظر رکھا جائے،پشاور میں میڈیا سے بات چیت اور مظاہرے سے خطاب

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت اسلام آباد سے اغواء اور بعد میں افغانستان میں قتل ہونے والے شہید ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت پر خاموش نہیں رہے گی،حکومت اور متعلقہ اداروں کو اسلام آباد سے ننگرہار تک طاہر داوڑ کے اغواء کاروں کو راستہ دینے والے خفیہ ہاتھ کی نشاندہی کرنا ہو گی،پختونخوا کے پولیس آفیسرز کے ساتھ امتیازی سلوک اور انہیں چن چن کر راستے سے ہٹایا جا رہا ہے، ریاست ناکام ہو چکی ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے حیات آباد پشاور میں شہید طاہر داوڑ کی رہائش گاہ پر ان کے لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، ایمل ولی خان نے کہا کہ ڈی پی او پاکپتن اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلوں پر سوموٹو لیا جاتا ہے لیکن طاہر داوڑ پر خاموشی سے خدشات جنم لے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بادی انظر میں اس گھناؤنے جرم میں ریاست کا ہاتھ ہے ، خیبر پختونخوا کے افسران کو راستے سے ہٹا کر پختون قوم کو کچھ اور ہی پیغام دیا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ پہلے پشتون قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر کرنا اور اب پختون افسران کو راستے سے ہٹانا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں،ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ شہریار آفریدی صرف مہرہ ہے جسے وزارت داخلہ کی ابجد تک کا علم نہیں اور انتہائی حساس معاملے پر اس نے لوگوں کو گمراہ کیا، انہوں نے کہا کہاسلام آباد میں آرمی چیف اور چیف جسٹس کے قتل کا فتویٰ دینے والے سلامت اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والے افسران کا اغواء اور بیہمانہ قتل ہورہا ہے،حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ کیا وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے یا عوام کے ساتھ؟،انہوں نے کہا کہ طاہر داوڑ کے قتل نے سیکیورٹی اداروں کے کردارپر بھی سوالات اُٹھا دیے ہیں،ہم وزیرستان،باجوڑ اور کوئٹہ میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدگیوں کا ماتم کریں یا اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے پر روئیں،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ غیر ریاستی عناصر کو خفیہ ہمدردی حاصل ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں مساوی حیثیت اور اس کو پر امن بنانے کیلئے قربانیاں دی ہیں ،ہم اپنی قربانیوں کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینگے۔ پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہوچکا ہے اور طاہر داوڑ کے بعد مزید لاشیں برداشت نہیں کریں گے۔
بعد ازاں پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کیلئے شہید ایس پی کے بیٹے کی خواہش کو مد نظر رکھا جائے اور عالمی اداروں سے اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائے ، انہوں نے کہا کہ صورتحال سنگین ہو چکی ہے ،پختونوں کو دیوار سے لگانے کیلئے کھیل کھیلا جا رہا ہے اور قوم کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ جو بھی دہشت گردوں کے راستے کی رکاوٹ بنے گا اس سے زندگی چھین لی جائے گی۔