طاہر داوڑ اغوائیگی و شہادت،اے این پی کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک التواء جمع
تحریک التواء عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کی جانب سے جمع کیا گیا۔
حاضر سروس ایس پی کو اغواء کرنا اور افغانستان سے اُس کی لاش ملنا حکومت کی ناکامی کیلئے کافی ہے۔
سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی موجودگی میں طاہر داوڑ کا اغواء ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
حکومت واضح کرے کہ طاہر داوڑ کو اغوائیگی کے بعد زمینی راستے پر کیسے افغانستان لے جایا گیا۔
وزیر داخلہ نے کیوں اس معاملے کو اتنا حساس قرار دے کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
حکومتوں،وزارت داخلہ اور پختونخوا پولیس کی خاموشی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔
اس مسئلے پر ایوان میں بات کرنے کی اجازت اور سانحے پر ان کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے شہید ایس پی طاہر داوڑ کی اغوائیگی اور شہادت کے حوالے سے تحریک التواء خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمع کرادی گئی ہے،تحریک التواء عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سرادر حسین بابک کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے،سردار حسین بابک نے اپنے تحریک التواء میں موقف اپنایا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کے اغواء اور اُن کی انتہائی بے دردی سے قتل کرنے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے،ملکی دار الخلافہ سے ایک حاضر سروس ایس پی کو اغواء کرنا اور پھر پڑوسی ملک افغانستان سے اُن کی لاش ملنا حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی موجودگی میں ایک حاضر سروس ایس پی کو اغواء ان کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے،حکومت یہ وضاحت کرے کہ شہید طاہر داوڑ کو اغواء کے بعد زمینی راستے پر کیسے افغانستان لے جایا گیا اور یہ کیسے ممکن ہوا۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے حقائق سامنے لانے اور اغواء میں ملوث اغواکاروں کے خلاف حکومتی کاروائی کی وضاحت بھی مانگی۔انہوں نے وزیر داخلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ وضاحت کریں کہ آخر طاہر داوڑ کیس کو اُس نے کیوں اتنا حساس معاملہ قرار دیا اور پھر تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے انہوں نے سانحے کے حوالے سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سانحے کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کریں۔سردار حسین بابک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں،وزارت داخلہ اور پختونخوا پولیس کی خاموشی پر بھی سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی خاموشی بہت حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔