صوبائی حکومت احتساب کمیشن کی کارکردگی بھی منظر عام پر لائیں،ایمل ولی خان
پی ٹی آئی والے بتائیں اے این پی کے کتنے منتخب ممبران پر کیسسز بنائے۔
پختونوں کو حقوق سے محروم کرنے کیلئے اے این پی کو بدنام کیا گیا۔
احتساب کمیشن کی ذریعے شریف پختون افسران کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔
احتساب کمیشن کے خاتمے پر کیا صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں تھا۔
پی ٹی آئی نے بدنامی سے بچنے کیلئے خاموشی سے احتساب کمیشن کے دفتر کو تالا لگا دیا۔
پی ٹی آئی کے پاس کرپشن کا نعرہ ایک ٹول ہے،جسے وقتاً فوقتاً استعمال کیا جاتا ہے۔
اے این پی اب بھی بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتی ہے اور
سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے۔

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے صوبائی احتساب کمیشن کے خاتمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت احتساب کمیشن کے خاتمے پر احتساب کمیشن کی کارکردگی بھی منظر عام پر لائیں،پی ٹی آئی چئیرمین سے لیکر پی ٹی آئی ورکران نے اے این پی پر کرپشن کے جو الزامات لگائے تھے یا تو اُس پر اب معافی مانگیں یا عوام کو بتایا جائے کہ احتساب کمیشن نے عوامی نیشنل پارٹی کے کتنے منتخب ممبران پر کیسسز بنائے،عوامی نیشنل پارٹی کو ایک سوچھے سمجھے سازش کے تخت بدنام کیا گیا تاکہ پختون اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنے حقوق سے محروم رہ سکیں لیکن الزامات لگانے والوں کی یہ خام خیالی ہوسکتی ہے،اے این پی کو ایسے الزامات پر سیاست اورنظریے سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا،ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے ذریعے شریف النفس پختون بیوروکریٹس اور افسران کی پگڑیاں اچھالی گئیں،جب اُن افسران کے کیسسز ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں چلے گئے تو احتساب کمیشن کے پاس ثابت کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا،ایمل ولی خان نے استفسار کیا کہ کیا احتساب کمیشن کے خاتمے پر خیبر پختونخوا اسمبلی کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں تھا،پی ٹی آئی نے بدنامی سے بچنے کیلئے خاموشی سے احتساب کمیشن کے دفتر کو تالا لگا دیا لیکن اے این پی احتساب کمیشن کا احتساب کرکے ہی خاموش بیٹھے گی،ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ کرپشن کا نعرہ پی ٹی آئی والوں کے ساتھ ایک ٹول ہے جسے وہ وقتا فوقتا اصل ایشوز سے نظر ہٹانے کیلئے استعمال کرتی ہے،انہوں نے ایک بار پھر تبدیلی سرکار کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کمیشن کے بعد اگر اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہو تو اے این پی اب بھی میدان ہے اور ہر قسم احتساب کیلئے تیار ہے لیکن اب شرط یہ ہوگا کہ پہلا احتساب اب پی ٹی آئی کا ہوگا۔