صوبائی حکومت احتساب کمیشن پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کرے،سردار حسین بابک

صوبے کے محدود وسائل کو من پسند فیصلوں کی نذر کرنے والے ذمہ داروں کی وضاحت کی جائے۔

احتساب کمیشن قائم کرنے اور بعد ازاں اسے ختم کرنے کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔

بلدیاتی نظام میں تعلیمی شرط ،نچلی سطح پر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات اور ضلع کونسل کا خاتمہ کسی طور قابل قبول نہیں۔

قبائلی اضلاع کے معاملات کیلئے کمیٹی کا قیام انضمام کے عمل کو طوالت دینے کے سوا کچھ نہیں۔

سرکاری محکمے قبائلی عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے وہاں کا نظم و نسق سنبھالیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی حکومت سے احتساب کمیشن پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے کے محدود وسائل کو من پسند فیصلوں کی نذر کرنے والے ذمہ داروں کی وضاحت کی جائے، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتساب کمیشن قائم کرنے اور بعد ازاں اسے ختم کرنے کی وجوہات سامنے لائی جائیں ،انہوں نے کہا کہ نیب صوبائی حکومت کے بیشتر نصوبوں سمیت احتساب کمیشن پر کیوں خاموشی اختیار کئے ہے، سردار حسین بابک نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے سولوفلائٹ منصوبوں کے غیر ضروری اخراجات کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، مجوزہ نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام میں امیدواروں کیلئے تعلیمی شرط ،نچلی سطح پر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات اور ضلع کونسل کا خاتمہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت آئین میں درج بلدیاتی نظام کو اختیارات کی منتقلی میں بری طرح ناکام رہی ہے اور صوبائی حکومت کی کمزور منصوبہ بندی نے صوبے کو مالی بحران کا شکار کر دیا ہے،صوبائی جنرل سیکرٹری کہاکہ صوبے کے محدود وسائل کو غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے نہ ختم ہونے والی معاشی بدحالی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے وبے کا نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد مالی اور انتظامی طور پر نظم و نسق سنبھالنا آئینی طور پر صوبے کی ذمہ داری بن گئی ہے ،وزیر اعلیٰ اور وزراء کی موجودگی میں قبائلی اضلاع کے معاملات کیلئے کمیٹی کا قیام انضمام کے عمل کو طوالت دینے کے سوا کچھ نہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تمام محکمے فوری طور پر قبائلی اضلاع کا نظم و نسق سنبھالیں اور وہاں کے غیور عوام کیلئے حکومتی امور میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کام کریں۔