صفائی کی مد میں سالانہ اربوں روپیہ اپنوں کو نوازنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ثمر بلور

ایک ادارے کے سی ای او کی تنخواہ 7لاکھ روپے جبکہ اس ادارے کا سالانہ بجٹ 3ارب روپے ہے۔

موجودہ حکومت کے سابق دور میں پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوا ۔

ایم این اے کی بطور فوکل پرسن تعیناتی بھی یوٹرن پالیسی کا حصہ ہے۔

پشاور فلتھ ڈپو میں تبدیل ہو چکا ہے ، گندگی کے ڈھیروں سے تعفن اور مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پشاور میں صفائی کی قابل رحم صورتحال سے متعلق بعض اخبارات میں شائع خبر پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صفائی کی موجودہ ناقص صورتحال کی ذمہ دار یہی حکومت ہے جس کے سابق دور میں پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ کلین اینڈ گرین پشاور کی حقیقت کا پول بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صفائی پر مامور ایک ادارے کے سی ای او کی تنخواہ 7لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ اس ادارے کا سالانہ بجٹ 3ارب روپے ہے اور ادارے میں کسی کی تنخوا ایک لاکھ سے کم نہیں اس کے برعکس صوبائی حکومت کی جانب سے صفائی کی صورتحال پر عدم اطمینان اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ اقربا پروری کی بنیاد پر قائم کیا گیا اور اس مد میں سالانہ اربوں روپیہ اپنوں کو نوازنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ثمر بلور نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی بطور فوکل پرسن تعیناتی کا مراسلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے ایک اور یوٹرن کا سہارا لیا جارہا ہے اور اب ایک بار پھر بھاری تنخواہوں پر اس مقصد سے کروڑوں روپے ہتھیانے کا منصوبہ بن رہا ہے ، انہوں نے استفسار کیاکہ اگر فوکل پرسن کی تعیناتی مقصود ہے تو پھر بھاری بھر کم تنخواہوں پر منیجرز کی فوج بھرتی کرنا کس زمرے میں آتا ہے؟ثمر بلور نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران پشاور فلتھ ڈپو میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں سے تعفن اور مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں جو اربوں روپے ڈکارنے والے ادارے کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایس ایس پی میں کالی بھیڑوں کا قلع قمع کئے بغیر صفائی کی صورتحال بہتر بنانا ممکن نہیں ہے، ثمر بلور نے کہا کہ ایم این اے کی بطور فوکل پرسن تعیناتی سے بڑے پیمانے پر گھپلے سامنے آئیں گے جس سے ایک نیا پنڈورا بکس کھل جائے گا۔