شہید طاہر داوڑ قتل کی تحقیقات عالمی اداروں سے کرائی جائے ، میاں افتخار حسین

مرکزی و صوبائی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں، ہر شہری دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔

چیف جسٹس نان ایشوز پر سوموٹو ایکشن لیتے رہے لیکن انسانی جانوں کے ضیاع کی کوئی اہمیت نہیں۔

اب بہت خون بہ چکا ہے ،طاہر داوڑ کے بعد ہم مزید لاشیں برداشت نہیں کریں گے۔

ایاز محسود کی جانب سے جن کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے اس سے شکوک و شبہات اور بڑھ گئے ہیں۔

عمران خان کو 19روز بعد طاہر داوڑ کے واقعے کی تحقیقات کا خیال آیا، پشاور میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور اعلیٰ افسران سے لے کر عام آدمی تک ہر شہری دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے، طاہر داوڑ قتل کی تحقیقات ان کے بیٹے کی خواہش کے مطابق عالمی اداروں سے کرائی جائے ،چیف جسٹس نان ایشوز پر سوموٹو ایکشن لیتے رہے لیکن انسانی جانوں کے ضیاع کی ان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے این پی کے زیر اہتمام شہید ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرقائمقام مرکزی صدر حاجی غلام احمد بلور ، سید عاقل شاہ، سردار حسین بابک ، ایمل ولی خان ،اہم مرکزی ، صوبائی ، ضلعی قائدین سمیت خواتین رہنماؤں اور پارٹی کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد پختونوں کو ٹارگٹ کئے جانے والا سلسلہ تھم نہیں سکا اور آئے روز پختونوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اب بہت خون بہ چکا ہے اور ہم مزید لاشیں برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ مسلط کردہ حکومت کی پالیسیاں بھی اس کی طرح ناکام ہیں جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں ، میاں افتخار حسین نے افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کو 19روز بعد طاہر داوڑ کے واقعے کی تحقیقات کا خیال آیا جبکہ اگلے ہی روز اسے شہید کر دیا گیا جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ مارنے والوں نے ہی عمران خان کو خاموش رکھا ہوا تھا،انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ہاں کوالٹی کا معیار اب یوٹرن رہ گیا ہے ، مسلط وزیر اعظم نے ملک کی سیاست کو گہن لگا دیا ہے ، پہلے بکنے والوں کو لوٹا کہتے رہے بعد میں انہی کو الیکٹورل کا نام دے دیا، سیاست سے شرافت ختم کر دی گئی اور مسلط وزیر اعظم نے الفاظ کے استعمال میں ڈکٹیٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،انہوں نے ایس پی طاہر داوڑ کیس میں افغانستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے میت حوالہ کرنے میں اہم کردار کیا ، انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی نے اغوا کاروں کے فرار کا جو روٹ بتایا لگتا ہے وہ پاکستان کے اندر بھی کسی جگہ سے واقف نہیں صرف لوگوں کو گمراہ کیا جاتا رہا،انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے افسر ایاز محسود کو اغوا کیا گیا تاہم سوشل میڈیا پر واویلا مچنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ جس شخص کی بیٹی کی شادی ہو وہ گھر چھوڑ کر ڈی آئی خان کیسے اور کس لئے پہنچ گیا جبکہ اس کے موبائل گم ہو چکے تھے تو اسے گھر آنے کی بجائے کہیں اور جانے کی کیا ضرورت تھی ،انہوں نے کہا کہ ایاز محسود کی جانب سے جن کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے اس سے شکوک و شبہات اور بڑھ گئے ہیں،مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت نے طاہر داوڑ کی میت وصول پر بھی ڈرامہ کیا اور اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے رہے جبکہ ان کا کام ایس پی کو سیکورٹی فراہم کرنا تھا جس میں حکومت ناکام رہی،انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کیلئے اگر شہید کے لواحقین میدان میں نکلیں گے تو اے این پی ان کے شانہ بشانہ ہو گی۔اس موقع پر اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں کہا کہ طاہر داوڑ کا قتل رائیگاں نہیں جانے دیں گے ، چیف جسٹس جواب دیں وہ ایک آئی جی کی ٹرانسفر پر سوموٹو ایکشن لیتے ہیں جبکہ دوسرے ایس پی کی شہادت پر خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اس بات کی وضاحت کرے کہ وہ دہشت گردوں کا ساتھی ہے یا عوام کی جان و مال کا محافظ ہے،انہوں نے کہا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،سردار حسین بابک نے کہا کہ کہ واقعہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، طاہر داوڑ کا اغواء اور بیدردی سے قتل کر کے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ایک آفیسر کے اغوا اور بے دردی سے قتل نے ان کی غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی ظاہر کر دی ہے، ملک میں ایک سیکورٹی افسر محفوظ نہیں تو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی توقع کس سے کی جائے ؟سردار بابک نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس واقعے کی تفصیلات سامنے لائیں اور قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں ۔