سو روزہ کارکردگی میں ملک پر بلیک لسٹ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں، شاہی سید
تاریخ کی ناکام ترین اور بے سمت خارجہ پالیسی کی سبب سے ملک مکمل تنہائی کی جانب گامزن ہے۔
معیشت کی بہتری کی جانب اقدامات اٹھانے کے بجائے بھیک اور کچکول کو اہم منصب کی پہچان بنادیاگیا۔
قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والے آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں سے قرضے مانگ رہے ہیں۔
سو روزہ پلان تضادات کامجموعہ ہے جس میں احتساب کو انتقام کی شکل دیدی گئی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ سو دن کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ ملک پر گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے کے خطرات منڈلارہے ہیں اور قوم پر ظاہر ہوچکا ہے کہ اناڑی حکومت چل نہی رہی بلکہ اسے چلایا جارہا ہے،باچا خان مرکز سے جاری کردہ بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی کے دعوے داروں نے قائمہ کمیٹیاں تک نہ بنائیں اور ایوانوں میں فقط بہتان تراشیاں ہوتی رہیں،سو روزہ پلان تضادات کامجموعہ ہے جس میں احتساب کو انتقام کی شکل دیدی گئی ہے، تاریخ کی ناکام ترین اور بے سمت خارجہ پالیسی کی سبب سے ملک مکمل تنہائی کی جانب گامزن ہے سلیکٹڈ وزیر اعظم قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کیے گئے وعدوں میں سے کسی ایک کو بھی عملی جامہ نہ پہناسکے،22 سالہ جدوجہد کا دم بھرنے والوں کو جدوجہدکی ’’ الف ب‘ ‘ کا بھی پتہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ شہد اور دودھ کی نہریں نکالنے کے دعوے کرنے والوں نے مہنگائی ،بے روزگاری اورمصائب کے اڑدہے نکالے، شاہی سید نے کہا کہ کفایت شعاری کے نام پر قوم کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا معیشت کی بہتری کی جانب اقدامات اٹھانے کے بجائے بھیک اور کچکول کو اہم منصب کی پہچان بنادیاگیا جبکہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کو دعوے داروں نے نوازنے ،موروثی سیاست اور علامتی اور نا اہل وزیروں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والے آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں سے قرضے مانگ رہے ہیں اور معمولی واقعات پر مستعفی ہونے کی یورپی مثالیں دینے والا دہشت گردی کے سنگین واقعات رونما ہونے کے باوجود کیوں وزارت داخلہ پر براجمان ہے۔