حکومت قوم کو یمن جنگ کا ایندھن بنانے کی کوششوں سے گریز کرے، ایمل ولی خان
شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ،حکمران ماضی کی تباہ کاریوں کو مد نظر ضرور رکھیں۔
وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب اور اب یو اے ای کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
شہید طاہر داوڑ کا معاملہ ابھی خاموش نہیں ہوا، اس حوالے سے پیش رفت پر قوم کو آگاہ کرنا چاہئے۔
بیرونی ممالک سے حاصل کئے جانے والے قرضوں کی شرائط کی وضاحت ضروری ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے دورہ یو اے ای سے یمن معاملے پر شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں ، اور اگر ایسا ہوا تو حکمران ماضی کی تباہ کاریوں کو مد نظر ضرور رکھیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ مشترکہ کاروباری شراکت داری پر جو بات چیت کی گئی ان کی شرائط قوم کے سامنے رکھی جائیں اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب اور اب یو اے ای کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جس کیلئے قوم کسی صورت تیار نہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی جنگ کا حصہ بننے سے باز رہے اور قوم کو مزید پرائی جنگوں کا ایندھن بنانے سے گریز کرے ، انہوں نے کہا کہ شہید طاہر داوڑ کا معاملہ ابھی خاموش نہیں ہوا اور حکومت کو اس حوالے سے پیش رفت پر قوم کو آگاہ کرنا چاہئے جبکہ بادی انظر میں یو اے ای کا دورہ اس اہم ایشو سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ حکمران اپنی سمت کا تعین کریں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر وضاحت کریں کہ بیرونی ممالک سے کن شرائط پر قرضے لئے جا رہے ہیں۔