اے این پی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت
طاہر داوڑ شہید کے اغوا اور قتل کے خلاف صوبہ بھر میں کل احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔
بدقسمتی سے حکومت مجرمانہ طور پر خاموش رہی ، میت کا معاملہ متنازعہ کر دیا گیا۔
طاہر داوڑ کیس میں وفاقی وزیر داخلہ کا سینیٹ میں بیان شگوفے سے کم نہیں۔
دفتر خارجہ اور وزیر داخلہ کے بیانات میں تضاد ہے جس سے حکومتی بے حسی اور غفلت کھل کر سامنے آ گئی 
سازش کے تحت پختونوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ،ایمل ولی خان 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے تمام پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو طاہر داوڑ شہید کے اغوا اور قتل کے خلاف اے این پی کی طرف سے دی گئی کل احتجاجی مظاہروں کی کال میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور اعلیٰ افسران سمیت تمام شہری اغواکاروں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں،انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع بشمول ایف آرز اور قبائلی اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں طاہر داوڑ کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ،ایمل ولی خان نے کہا کہ بدقسمتی سے طاہر داوڑ کے معاملے میں حکومت کنفیوز اور مجرمانہ طور پر خاموش رہی اور شہید کی میت کے معاملے کو بھی متنازعہ کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ میت حوالگی میں دفتر خارجہ اور وزیر داخلہ کے بیانات میں تضاد ہے جس سے حکومتی بے حسی اور غفلت کھل کر سامنے آ گئی ہے،ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ میت سرکاری وفد کے حوالے کی گئی جبکہ دوسری جانب میت سرکاری وفد کی بجائے داوڑ قبیلے کو حوالہ کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ طاہر داوڑ کیس میں وفاقی وزیر داخلہ کا سینیٹ میں بیان شگوفے سے کم نہیں ہے ،دہشت گردی پر بولنے اور اس کی مذمت کی بجائے وہ اس حساس معاملے میں بھی کرپشن کی کہانیاں سنا رہے ہیں،ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پختونوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومتیں ملک میں صرف گٹھ جوڑ میں لگی ہیں جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، انہوں نے کہا کہ سب کو اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہئے ، ایمل ولی خان نے کہا کہ معاشرے میں تشدد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے سب کو میدان میں نکلنا ہو گا ۔