اسفندیار ولی خان کی چینی قونصل خانے اور ہنگو میں دہشت گردی واقعات کی مذمت 
کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔
قبائلی ضلع اورکزئی میں بم دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے۔
دھماکوں اور بد امنی کے واقعات دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان کو مصلحت کی بھینٹ چڑھانے کا نقصان قوم کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
’’نیپ‘‘ پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بدستور دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان نے کراچی میں چین کے قونصل خانے پر دہشت گردوں کے حملے اور اورکزئی ایجنسی میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاک چین دوستی اور سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے ، اپنے ایک مذمتی بیان میں اسفندیار ولی خان نے حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتیں ، انہوں نے کرم ایجنسی میں بم دحماکے میں بے گناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی رنج وغم کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں دھماکوں کے پے در پے بڑھتے ہوئے واقعات دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تاحال دعوؤں سے بڑھ کر کچھ دکھائی نہیں دے رہا جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی گزشتہ چار سال مطالبہ دہراتی آئی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے قوم کو بچانے کیلئے اے پی ایس کے بعد سامنے آنے والی 20نکاتی متفقہ دستاویز پر من و عن عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں مصلحت سے کام نہ لیا جائے ،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا تاہم بدقسمتی سے مرکزی و صوبائی حکومتوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس پر سمجھوتہ کیا،اسفندیار ولی خان نے کہا کہدہشت گردی کے خاتمے کیلئے گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ختم کرنی ہو گی، انہوں نے کہا کہ جو لوگ طالبان کے ڈر اور خوف کی وجہ سے انہیں دفتر دینے کے حق میں تھے وہی آج حکمران بنے بیٹھے ہیں ، انہوں نے کہا کہ چینی قونصل خانے پر حملہ سوچی سمجھی سازش ہے اور اس کا مقصد دنیا میں ملک کا تشخص اور امیج تباہ کرنا ہے حکومتیں مصلحت سے کام نہ لیں اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی اپنائیں ۔