نگران نامزدگی معاملہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کی ہٹ دھرمی سے ڈیڈلاک کا شکار ہوا ،سردار حسین بابک

خیبر پختونخوا سے نگران وزیر اعظم کی نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں قابل اور دیانتدار شخصیات کی کمی نہیں۔

سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینا افسوسناک اورنیک شگون نہیں۔

 سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر غیر جانبدار شخصیت کی بجائے من پسند فرد کی تلاش میں ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر کو آئینی اختیارصوبے کے مفاد کیلئے حاصل ہے ذاتی مفاد کیلئے نہیں۔

دونوں کو صوبے کے مفاد میں سوچنا چاہئے ، فیصلے میں تاخیر سے سولات جنم لے رہے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ معاملہ ڈیڈلاک کا شکار ہوا ،اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعظم جسٹس ناصر الملک کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے صوبے میں قابل اور تجربہکار شخصیات کی کمی نہیں تاہم اگر ذاتی مفادات سے قطع نظر معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو جلد از جلد نمٹایا جا سکتا ہے ، لیکن سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر غیر جانبدار شخصیت کی بجائے من پسند فرد کی تلاش میں ہیں دونوں کو صوبے کے مفاد میں سوچنا چاہئے ، فیصلے میں تاخیر سے سولات جنم لے رہے ہیں۔ ، انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق اپوزیشن لیڈر اپنے آئینی اختیارات کا غیر آئینی استعمال کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینا افسوسناک اورنیک شگون نہیں ، سردار بابک نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کیلئے موجودہ وقت لمحہ فکریہ ہے ، انہوں نے کہا کہ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی چار جماعتیں ایک طرف ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر کی ایک جماعت دوسری جانب کھڑی ہے اور نامزدگی کیلئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں قابل ، دیانتدار، تجربہ کار اور گرانقدر شخصیات کی کمی نہیں لہٰذا غیر جانبدار شخصیت کو نگران نامزد کر کے اس اہم معاملے کو جلد از جلد نمٹا دیا جائے ۔