منظور آفریدی کی نامزدگی پری پول رگنگ کی پہلی کوشش ہے، میاں افتخار حسین

اے این پی شفاف انتخابات کے حق میں ہے ،جانبدار شخصیت کے انتخاب سے آنے والا الیکشن مشکوک ہو جائے گا۔

مک مکا کے ذریعے نگران وزیر اعلیٰ کا تقرر نہیں کیا جا سکتا ، صوبے میں قابل شخصیات کی کمی نہیں۔

 منظور آفریدی کے بھائی پی ٹی آئی کے سینیٹر اور تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے منظور آفریدی کے نام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ کیلئے غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کیا جائے، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جانبدار شخصیت کے انتخاب سے آنے والا الیکشن مشکوک ہو جائے گا اور اے این پی صوبے میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے ، انہوں نے کہا کہ منظور آفریدی کا تعلق جے یو آئی سے ہے اور اس بات کا واضح ثبوت ان کی وہ تصویر ہے جس میں وہ فاٹا انضمام کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس میں ان کے شانہ بشانہ براجمان ہیں اور وہ دنیا بھر میں وائرل ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت کی معیاد پوری ہونے کے بعد ہمیشہ کسی غیر جانبدار شخصیت کو ہی نگران مقرر کیا جاتا ہے تاکہ شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہو سکے جبکہ اس کے بر عکس خیبر پختونخوا میں اس روایت کو پس پشت ڈالا گیا ، انہوں نے کہا کہ بلاشبہ پانچ سال اقتدار پی ٹی آئی کے پاس رہا جبکہ جے یو آئی نے ہاؤس میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا تاہم اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ باقی پارٹیوں کی کوئی پوزیشن نہیں اور انہیں اس اہم ایشو میں نظر انداز کرتے ہوئے مک مکا کے ذریعے اپنا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ منظور آفریدی کے بھائی پی ٹی آئی کے سینیٹر ہیں اور وہ تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کرتے ہیں ایسی صورت میں منظور ؤفریدی سے غیر جانبداری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ،انہوں نے کہا کہ منظور آفریدی کی نامزدگی پری پول رگنگ کی کوشش ہے ، جسکی اے این پی کسی طور اجازت نہیں دے گی ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں کئی نامور سیاسی شخصیات موجود ہیں جنہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ،