مثبت معاشرے کے قیام میں خواتین کی تعلیم سے انکار نہیں کیا جا سکتا، میاں افتخار حسین
جہالت کے اندھیروں کو متانے اور انسانیت کی خدمت کیلئے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔
کم از کم تعلیم ایف اے تک حاصل کرنے کو لازمی قرار دیا جائے ۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین میں شرح تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔
بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، ماں تعلیم یافتہ ہو تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہو گا۔
ہمارے ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مکمل ناکام ہو چکی ہیں۔
فروغ تعلیم کاروبار نہیں قوم کی خدمت ہے ، صباؤن اکیڈمی میں تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر قوموں کی ترقی ممکن نہیں اور مثبت معاشرے کے قیام میں خواتین کی تعلیم سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، ان خیالات کا اظہار انہون نے صباؤن اکیدمی میں منعقدہ محفل مشاعرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہون نے کہا کہ دنیا میں تعلیم ہر کسی پر لازم ہے اور ہمارے دین میں اس بات کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے ، جبکہ نبی کریم نے واضح طور پر کہا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی جانا پڑے ، انہون نے کہا کہ دنیا میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، جہالت کے اندھیروں کو متانے اور انسانیت کی خدمت کیلئے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ،انسان کی اپنی اور دنیا کی کامیابی کیلئے تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ کم از کم ایف اے تک تعلیم لازمی قرار دی جائے انہوں نے کہا کہ افراد کی تعلیم انتہائی ضروری ہے لیکن اس سے بھی ضروری خواتین کی تعلیم ہے جو ایک قوم کی تربیت کے مترادف ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہو گا اور یہی معاشرے کی کامیابی کا راز ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے مین افراد کی تعلیم کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ خواتین میں شرھ تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ، جس کا نقصان قوم کو ہو رہا ہے ، غربت و افلاس کی وجہ سے لوگ تعلیم کی بجائے محنت مزدوری پر توجہ دیتے ہین یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ کم اور مزدور زیادہ پیدا ہوتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اس نقصان کی زیادہ تر ذمہ داری حکومتون پر عائد ہوتی ہے جو عوام سے تیکس وصول کرتی ہے لیکن انہیں صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں اندھیروں مین دھکیل دیتی ہے ، انہون نے کہا کہ ہمارے ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مکمل ناکام ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام مین شعور بیدار ہونا شروع ہوا ہے ،اور ایسے وقت مین حکومتون کے ساتھ مخیر حضرات اور سماجی تنطیموں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم کے فروغ اور ترویج کیلئے کام کریں اور اس کیلئے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ میں نے ایک بیڑا اٹھایا اور اپنے شہید بیٹے کے نام پر اکیڈمی قائم کی جس میں 100بچے اور100بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جو تمام آئی ڈی پیز ہیں اور میری کواہش ہے کہ میں اسے یونیورسٹی لیول تک لے کر جاؤں ،انہوں نے کہا کہ میں نے اکیڈمی میں بچوں اور خصوصاً بچیون کیلئے ہاسٹل بھی قائم کئے ہیں تاکہ انہیں مسائل درپیش نہ ہوں ، انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ تعلیمی ادارے اس کی تقلید کریں اور اپنے اداروں مین بچوں کو وسائل کی فراہمی کیلئے ان کا خاص خیال رکھین اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر ادارے ہی نہ بنائیں ، تعلیم کاروبار نہیں بلکہ انسانیت اور قوم کی خدمت ہے ،انہوں نے کہا کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے کیونکہ ترقی کی منازل طے کرنے کیلئے مادری زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے ، بیرونی دنیا کے ممالک صرف اس لئے ترقیافتہ ہیں کیونکہ وہ مادری زبان میں تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں،انہوں نے مشاعرے میں شرکت کرنے والے شاعرون کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شاعر ہمارے تخلیق کار ہیں اور قوم کے کردار کی تعمیر میں ان کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔