ANP delegation visits ECP

کالعدم تنظیموں سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی میدان میں اترنے کی تگ ودو میں ہیں،میاں افتخار حسین
* دہشتگرد تنظیموں کی پارلیمنٹ تک رسائی کی کوششیں ملکی سالمیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں کالعدم تنظیموں کا راستہ روکنے کیلئے متفقہ شق موجود ہے ۔
سیاسی جماعتوں کو پر امن انتخابی ماحول کی فراہمی اور متذکرہ بالا تنظیمون کا راسرہ روکنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتظامیہ اور پولنگ عملے پر بھی لاگو ہونا چاہئے ۔
انتخابات بہرصورت وقت مقررہ پر ہونے چاہئیں، سیاسی جماعتوں کے انتخابی اخراجات کی حد غیر واضح ہے۔
 الیکشن کمیشن انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کو سہولیات بہم پہنچائے اور ان کا تحفظ یقینی بنائے۔
 الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں کے پی کے کی بجائے خیبر پختونخوا کا پورا نام لکھنے کا رواج ہونا چاہئے۔
میڈیا انتخابی عمل میں غیر جانبدار رہے ، تمام جماعتوں کو مناسب کوریج دی جائے ، الیکش حکام سے ملاقات کے بعد پریس بریفینگ 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی سیاسی میدان میں سرگرمیاں جاری ہیں اور ان کے ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے انتخابی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے الیکشن کمیشن کے حکام سے بات چیت اور بعد ازاں پریس بریفنگ کے دوران کیا ، الیکشن کمیشن کے حکام سے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی ملاقات کی ، اے این پی کے وفد کی نمائندگی میاں افتخار حسین نے کی جبکہ دیگر ممبران میں مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور، مرکزی نائب صدر بشری گوہر اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان شامل تھے ، ملاقات میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس حوالے سے کئی تجاویز بھی سامنے آئیں ، ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں اس بات پر متفقہ فیصلہ ہوا تھا کہ نام بدل کر سیاسی میدان میں اترنے والی کالعدم تنظیموں کا راستہ روکا جائے گا،تاہم ابھی تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے کہ جن تنظیموں پر پاکستان میں پابندی ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسی تنظیموں کا راستہ روکے، انہوں نے کہا کہ دکھائی ایسا دے رہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ اور یا ان کے ارکان دیگر سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوکر پارلیمنٹ تک پہنچنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں اور یہ عمل پاکستانی ریاست اور اس کے نظام کیلئے خطرے سے خالی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کا راستہ روکا گیا اور اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس پر ہم نے الیکشن کمیشن کو اگاہ بھی کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا،میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت اور امیدوار کو پرامن انتخابی ماحول فراہم نہیں کرسکتا تو وہ ضابطہ اخلاق بناکر شفاف انتخابات کے انعقاد کا دعوی کیسے کرسکتا ہے؟
میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات بہرصورت وقت پر ہونے چاہئیں اور خیبر پختونخوا کے ساتھیوں کی جانب سے لکھے گئے خطوط، بلوچستان اسمبلی کی قرارداد اور عدالت کی جانب سے بعض حلقہ بندیوں کو رد کرنے سے بروقت انتخابات کے انعقاد پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق صرف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر لاگو ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ اور عملے کے ارکان کیلئے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تاکہ انہیں پابند رکھ کر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جاسکے۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کسی بھی سیکورٹی ایجنسی سے انتظامات کیلئے مدد مانگتی ہے تو اس کیلئے بھی ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے، پولنگ سٹیشن کے اندر کامل اختیارات ریٹرننگ افیسر اور اس کے ماتخت انتظامی عملے کو ملنے چاہئیں اور اگر عملہ محسوس کرے تو سیکورٹی کو بلایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران الیکشن کمیشن حکام کی توجہ اس جانب بھی دلائی گئی ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کیلئے تو بالترتیب 40 لاکھ اور 20 لاکھ روپے کے اخراجات کی حد رکھی گئی ہے مگر دوسری جانب سیاسی جماعت کی جانب سے کئے جانے والے اخراجات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض پارٹیوں کی جانب سے بسا اوقات چینلوں کی پوری ٹرانسمیشن خرید لی جاتی ہے لیکن اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، اگرچہ میڈیا کو بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور سب سیاسی جماعتوں کو مناسب کوریج ملنی چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرانی ایات اور احادیث مبارکہ کے استعمال کا بھی الیکشن کمیشن نوٹس لے اور انتخابی نشانات جس نام سے دیئے جائیں، ضروری ہے کہ اسی نام کا استعمال کیا جائے اور اپنے مخصوص مقاصد کیلئے ان نشانات کو مخصوص شکل میں پیش کرنا انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی سمجھی جانی چاہیے۔ میاں افتخار حسین نے انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کی مقررہ پانچ فیصد شرح سے سیاسی جماعتوں میں خواتین کو ٹکٹوں کے اجراء سے ان کی شرکت یقینی بنائی گئی ہے جو کہ خوش ائند ہے مگر الیکشن کمیشن اس سلسلے میں خواتین کو سہولیات بہم پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور ان کا تحفظ یقینی بنائے ،تاکہ خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے ، انہوں نے الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں کے پی کے کے لفظ کے استعمال پر بھی اعتراض اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ صوبے کا پورا آئینی نام خیبر پختونخوالکھنے کو رواج دیا جائے۔