کرپشن اور کمیشن کی بنیاد پر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا، میاں افتخار حسین
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائینگے اور گذشتہ ساڑھے چار سال میں پختونوں کے جو حقوق غصب کئے گئے ہیں انہیں واپس حاصل کیا جائیگا۔ نوشہرہ کے علاقے کاہی خوڑہ نظام پور میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ دور ہم سے اتفاق اور اتحاد کا متقاضی ہے اور ہم سب کو مل کر اس صوبے کے حقوق کا دفاع کرنا ہوگا۔ صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کپتان وزارت عظمی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں خیبر پختونخوا سے کوئی سروکار نہیں۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کو ہے اور حال میں جو منصوبے شروع کئے جارہے ہیں ان کے مستقبل کی کسی کو فکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میٹرو کو دراصل سیاسی رشوت کی خاطر ساڑھے چار سال تک روکے رکھا گیا اور اب کمیشن اور سیاسی رشوت کی خاطر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی شعبہ باقی نہیں رہا جو صوبائی حکومت کی وجہ سے ناکامی کا سامنا نہ کررہا ہو۔ خزانہ خالی ہے، صحت کا محکمہ زبوں خالی کا شکار ہے۔ نوے دنوں میں تبدیلی کا نعرہ لے کر آنے والے پانچ سالوں میں کچھ نہ کرسکے۔ پی ٹی آئی کی حکومت ایک ناکام ترین حکومت ہے اور اسی ناکام حکومت نے عوام کو عوامی نیشنل پارٹی کے اور قریب کردیا ہے کیونکہ اے این پی ہمیشہ سے تشدد کے خلاف اور امن سے محبت کرنے والی جماعت ہے ، ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں اور ملک میں دیرپا امن کے خواہاں ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ فخر افغان باچا خان نے پختونوں کے ساڑھے چار ہزار سالہ مرض کی تشخیص کرنے کے بعد میدان میں آئے اور جو عوامی رابطے کی جو تحریک انہوں نے شروع کی اس میں نظام پور کے عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس کے بعد باچا خان نے ایسی رضاکار فورس ترتیب دی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کے کارکنوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے مگر ان کی ایسی تربیت کی گئی تھی کہ وہ اپنے عزائم سے پسپا نہیں ہوئے۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ اس علاقے میں جتنے میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرہون منت ہیں۔ کسی اور نے اس علاقے کو درخوراعتنا نہیں سمجھا۔ 
مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا کہ 1988 میں خان عبدالولی خان نے یہاں تاریخی جلسہ کیا تھا اور اس کے بعد اے این پی کے کسی مرکزی عہدیدار کا یہ پہلا جلسہ ہے جس میں عوام کے جوش وخروش سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے عوام اے این پی سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ یہاں کے عوام بڑی تعداد میں عوامی نیشنل پارٹی کے 18 مارچ کو ہونے والے جلسے میں شرکت کرکے پارٹی سے اپنی مضبوط وابستگی کا ثبوت دیں۔