پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلے ختم کئے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کے خاتمے کیلئے مل بیٹھ کا کوششیں کرنی چاہئیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں پارٹی کے سینئر رہنما مرحوم ارباب مجیب الرحمان کے چہلم کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،پختونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور سابق سینیٹر رضا محمد رضا اور اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان نے بھی تقریب سے خطاب کیا ،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا ، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا اور مستقبل میں مسائل کے حل کیلئے کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ دونوں ملک فاصلے ختم کرنے کیلئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں اور مشترکہ طور پر بد امنی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کام کریں ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ مزید لیت و لعل کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا حکومت اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرے اور فاٹا میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ قبائلی عوام کو درپیش مسائل کا نوٹس لے کر انہیں حل کیا جائے اور ان کے حقوق سے متعلق تمام جائز مطالبات کا نوٹس لیا جائے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو روایت سے ہٹ کر زیادہ حصہ ملا اور اس کے نتیجے میں وفاق کا حصہ کم ہو گیا ، یہی وجہ ہے کہ آج چند عناصر اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تاکہ صوبوں کو ملنے والے حقوق ان سے چھینے جا سکیں، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم واپس لینے کیلئے آئین میں ترمیم کے بغیر ممکن ہی نہیں اور ہم ایسے کسی اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے، انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اتحاد چھوٹے صوبوں کے حقوق کی بنیاد پر کریں گے اور بھرپور کوشش کریں گے کہ مالی وسائل چھوٹے صوبوں کے پاس ہونے چاہئیں، امیر حیدر خان ہوتی نے آئی ڈی پیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی نے ملاکنڈ اور سوات کے25لاکھ آئی ڈی پیز کو مختصر ترین وقت میں باعزت طریقے سے گھروں کو بھیجا لیکن بدقسمتی سے آج آئی ڈی پیز طویل عرصہ سے بے یارومددگار کیمپوں میں پڑے ہیں ،انہوں نے کہا کہ دوبارہ حکومت میں آکر ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائیں گے کیونکہ جہالت کے اندھیرے تعلیم کے بغیر چھٹ نہیں سکتے۔