7.3.2018

عدالت سوموٹو ایکشن لے ،سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والے ضمیر کے سوداگر ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والے ضمیروں کے سوداگر ہیں اور دولت کی ریل پیل کو اہمیت دینے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں اے این پی ضلع پشاور کے زیر اہتمام ارباب سکندر خان خلیل شہید کی 36ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،ارباب سکندر خان خلیل شہید کے قریبی ساتھی بیرسٹر ظہور الحق ،مرکزی سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ اور ضلع پشاور کے صدر ملک نسیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا،جبکہ مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، سٹی صدر ملک غلام مصطفی اور خواتین کی بڑی تعداد سمیت ذمہ داروں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں ارباب سکندر خان خلیل شہید کی سیاسی و ادبی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، انہوں نے کہا کہ انہیں جس مذہبی جنونی اور شدت پسند نے کسی اورکے اشارے پر شہید کیا تھا اور شاید اس قوت نے اس وقت یہ سوچا ہوگا کہ ارباب سکندر کو مار کر ان کا نام ونشان ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا،ان کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا،ان کی سوچ اور فکر کی جڑیں ختم ہوجائیں گی،انہیں شہید کرکے ان کی سیاسی پارٹی اپنی موت آپ مرجائے گی،مگر ان قوتوں کی اس قسم کی سوچ بلکل خام تھی کہ ارباب سکندرخان خلیل محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ ایک سوچ اور ایک تحریک کا نام تھے،بطور ادیب اور دانشور انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی مادری زبان سمیت انگریزی میں بھی کئی کتابیں لکھیں کئی تحقیقی مضامین لکھے اور انہی کتابوں اور مضامین میں ارباب سکندرخان خلیل کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں،اس کے علاوہ انہوں نے فخرافغان باچاخان اور خان عبدالولی خان کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کے جھنڈے تلے اپنی قوم اور اپنی مٹی کی آزادی،ترقی اور خوشحالی کے لیے جو کردار ادا کیا تھا،ملک میں جمہوریت، معاشی انصاف،صوبائی خودمحتاری اور مظلوم ومحکوم طبقات کے حقوق کے لیے جو قربانیاں دی تھیں انہی کے طفیل ارباب سکندرخان خلیل پختونوں کی قومی اور ادبی تاریخ میں رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔موجودہ ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ سینیٹ میں جو کچھ ہوا اب اس پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا ، عدالت اس حوالے سے تحقیقات کرائے اور قوم کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ایوان بالا میں موجود نمائندے چھوٹے صوبوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے موجود ہوتے ہیں اور جو شخص پیسے کے بل بوتے پر ایوان میں پہنچے وہ قوم کے حقوق کی بات کیسے کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال بھی ٹھیک نہیں 40سال تک پختونوں کا ناحق خون بہایا گیا اور آج ٹرمپ 33کروڑ ڈالرز کا حساب مانگ رہا ہے جو امریکہ نے اس خطے کی تباہی کیلئے ڈکٹیٹروں کو دیئے تھے ، انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کو نازک صورتحال کا ادراک کرنا چاہئے اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور کر کے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمارے خطے کو ایک بار پھر سپر پاور نے اپنے مفادات کا مسکن بنا لیا ہے ایسی صورتحال میں پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ری وزٹ کر کے انہیں قومی مفاد میں بنائیں،انہوں نے کہا تین سپر پاورز اور تین ایٹمی طاقتیں یہاں موجود ہیں اور اگر کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بج جائے گا، لہٰذا پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کر کے انہیں بہتر بنائے۔