26.3.18

ضمیر کا سودا کرنے والوں کے خلاف ثبوت سامنے آ چکے ہیں ،کاروائی ہونی چاہئے ، میاں افتخار حسین
باچا خان مرکز پشاور میں خان عبدالغنی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے والوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اور کپتان کو ثبوت مل چکا ہے اب دیکھنا ہو گا کہ ضمیر اور عوام کے حقوق کا سودا کرنے والوں کے خلاف کیا کاروائی ہوتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں پشتو زبان کے معروف شاعر ، ادیب محقق ،فلسفی اور قوم پرست سیاستدان خان عبدالغنی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک ، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی،جبکہ غنی خان کے پڑپوتے مشال خان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ، ، میاں افتخار حسین نے غنی خان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وہ ایک شاعر ،ادیب فلسفی اور اپنے وقت کے ایک بہترین سیاستدان بھی تھے،اور ان کا نام رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا،انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان نے سوچ اور فکر کی سیاست کو پروان چڑھایا جبکہ غنی خان نے شاعری کے ذریعے لوگوں میں شعور اجاگر کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ غنی خان ہمارے سیاسی استاد تھے اور ہم نے ان بہت کچھ سیکھا ان کوقوم پرست شعراء میں اہم مقام حاصل تھا ،انہوں نے کہا آج کے دور میں لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انہیں اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے غنی خان کو مشعل راہ بنانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ غنی خان مرحوم کی سیاست سے غریبوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر وہ اپنے کاز میں مخلص ہوں اور محنت کریں تو انسان اُن کی طرح مرنے کے بعدبھی دلوں میں زندہ رہتا ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عبدالغنی خان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی ، انہوں نے اپنی شاعری میں کئی برس قبل آج کے درپیش مسائل کی نشاندہی کر دی تھی ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک مدبر سیاستدان بھی تھے۔سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اے این پی انہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم باچا خان کے پیروکاروں کی عظیم فتح ہے اور ہم اپنی اس کامیابی کو کسی کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے ، انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی میدان میں ہو گی، انہوں نے کہا کہ عبید اللہ مایار کے بیان کے بعد اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ کس کس نے سینیٹ میں ووٹ بیجچے اور کس نے خریدے ، انہوں نے کہا کہ پہلے عمران خان نے کہا کہ ثبوت کوئی نہیں ملا اس لئے کاروائی نہیں ہو سکتی لہٰذا اب ثبوت سامنے آ چکا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ کپتان کس طرح ضمیر کا سودا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جمہوریت اورسیاست خصوصاً موجودہ حالات میں جبکہ پوری قوم متعددخطرات سے دوچارہے نوجوان نسل کی ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں۔ 
بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی دھمکیاں حد سے بڑھتی جارہی ہیں اور اگر صورتحال خراب ہوئی تو خطہ ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آجائے گا، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنی ناکام خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں عوامی مفاد میں بنانی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان دونوں تباہ ہو چکے ہیں ، انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو بھی اپنی پالیسیاں سپر پوار کی بجائے ملک اور قوم کے مفاد میں بنانی چائیں ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی جمہوری سیاسی جماعت ہے اور تمام معاملات پر پارٹی کا مؤقف روز اول سے واضح ہے ،انہوں نے کہا کہ پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیم کا کوئی بھی عہدیدار یا کارکن چاہے کتنے بھی بڑے عہدے پر ہو وہ پارٹی کی اجازت کے بغیر کسی دوسری تنظیم یا پارٹی کی تحریک میں شرکت نہیں کر سکتا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے آئین میں وضاھت کر دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان پارٹی قائد ہیں اور تمام پارٹی کارکن ان کا فیصلہ تسلیم کرنے کے پابند ہیں۔