صوبے کا نام تبدیل کرنے کی کوشش سے ملک میں انتشار پھیل جائے گا، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے اور اگر صوبے کا نام پھر سے تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی تو اس سے انتشار پھیلے گا،اٹھارویں ترمیم میں ردو بدل کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی مذمت نہیں بلکہ بھرپور مزاحمت کرے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتمانزئی چارسدہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ جب اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی اس وقت کسی سیاسی جماعت نے مخالفت نہیں کی نجانے اب کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے اور اب اسے رول بیک کرنے والوں کے گریبان پر ہمارا ہاتھ ہوگا،فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند عناصر کے علاوہ تمام لوگ فاٹا کے صوبے میں انضمام پر متفق ہیں آج نہیں تو کل یہ فیصلہ تو کرنا ہی پڑے گا لہٰذا فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے ، فاٹا کے عوام کو عدالتوں تک رسائی دی جائے اور قبائلی علاقوں میں تباہ ہونے والے تمام گھر ،سکول اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کی جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کے تمام مسائل کا حل خیبر پختو نخوا میں انضمام سے وابستہ ہے، فاٹا انضمام کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،انہوں نے کہا کہ آپریشن سے بے گھر ہونے والے قبائلیوں کی جلد از جلد باعزت واپسی یقینی اور نقصانات کا مناسب ازالہ کیا جائے، قبائلیوں میں بے چینی شدید تر ہوتی جارہی ہے جسے ختم کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خا ن بابا کے افکار کی روشنی میں پختونوں اور تمام مظلوم قومیتوں کی بقاء کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پہلے تو صرف گھوڑے فروخت ہوتے تھے لیکن اب کی بار پورے اصطبل فروخت ہوئے اور پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے اپنا ضمیر کا سودا کیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ نواز شریف اور زرداری کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے رہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ سینیٹ الیکشن میں انہوں نے کس سے ہاتھ ملایا اور اپنے ارکان کس کی جھولی میں ڈال دیئے ۔انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کو ایک کریڈٹ ضرور دوں گا کہ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے لیے پی ٹی آئی سے ووٹ لیکر عمران خان کو بے نقاب کیا۔کرپشن کا خاتمے کے دعوے کرنے والوں کو کرپشن کے خلاف کاروائی اپنے ارکان سے شروع کرنی چاہئے، متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پانچ برسوں تک مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق کو اسلام کی کوئی فکر نہیں تھی، پانچ برس سے سراج الحق عمران خان کے اور مولانا فضل الرحمٰن نواز شریف کے اتحادی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کو برا بھلا کہتے رہے اورسراج الحق نواز شریف پر کرپشن کے الزمات لگاتے رہے اقتدار کے خاتمے کے ایام قریب آتے ہی دونوں کواسلام یاد آگیا۔ ایم ایم اے کی بحالی اسلام کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد کے لیے ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کو ایک بار پھر ورغلانے کیلئے ایم ایم اے بحالی کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پشاور شہر کی حالت تباہ حال ہے چار سال تک میٹو کو پنجاب میں جنگلہ بس کہنے والوں کو آخری 6ماہ میں جنگلہ میں کیا خوبیاں نظر آئیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب کمیشن اور کرپشن کا منصوبہ ہے اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھاری کمیشن وصول کر کے اسے آئندہ الیکشن میں استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے ،انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ أئندہ الیکشن میں دھوکہ دینے والوں کا ووٹ کے ذریعے احتساب کریں۔