صوبوں کو کمزور کرنے کی کوشش ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈت کر مقابلہ کریں گے ، وزیر اعظم صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اھتیاط سے کام لیں اور کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے اٹھارویں ترمیم رول بیک کی کوشش کا فیصلہ واپس لیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو سی بالو علی بیگ کلے نوشہرہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن انتہائی منظم تنظیم ہے اور اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اُس وقت بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور یوتھ لیگ قائم کی اور این وائی او پارٹی کی ذیلی تنظیم کی حیثیت سے قوم کی خدمت اور سیاسی ونظریاتی تجربہ حاصل کر کے بہترین کام کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جن میں سے کل کے رہنما اور سیاسی قائدین نکلیں گے،باچا خان بابا کے فلسفے میں تعلیم کا فروغ اولیں ترجیح تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم نکتہ امن و محبت کا پرچار اور دشمنیوں کا خاتمہ تھا ، انہوں نے زندگی بھر پختونوں کے اتحاد و اتفاق کیلئے کوششیں کیں جبکہ خدائی خدمت گاری کو اپناتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی رضا کیلئے مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ،انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ہے لہٰذا دوسروں کو قائل کرنے کیلئے دلیل اور علم کے ذریعے بات کریں، 
میاں افتخار حسین نے کہا کہ کیبنٹ ڈویژن کے جلاس میں تجاویز طلب کی گئیں اور صوبوں کو ملنے والے محکمے اب واپس لینے پر غور کیا جا رہا ہے یہ اے این پی کی فتح تھی اور اب اسے کسی صورت سبوتاژ کرنے نہیں دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ملک ایسے انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا اور وزیر اعظم یہ بات جان لیں کہ صوبوں کو مضبوط کرنے سے ہی وفاق مضبوط ہو سکتا ہے،لہٰذ ہمیں انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں میٹرو کی مخالفت اور اسے جنگلہ بس کہنے والوں کو اپنی کمیشن کیلئے بی آر ٹی کا خیال آ گیا ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بد انتظامی کے بعد شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں تعلیمی شعبہ میں جو اصلاحات کیں وہ صوبے کی تاریخ کا حصہ ہیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے باوجود خزانہ بھرا ہوا چھوڑا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے صرف ساڑھے چار سال میں خزانہ لوٹ کر صوبے کو 300ارب روپے سے زائد کا مقروض کر دیا ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں نے صوبے کے قیمتی وسائل اور ذرائع آمدن کو بے دردی سے لوٹا اور آنے والی حکومت کو قرضے اتارنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ بی آرٹی میں جس مقدار میں سریا اور سٹیل استعمال کی جا رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے مسافر بسوں کیلئے شیر شاہ سوری کے زمانے سے قائم سڑک موزون ترین ہے پھر میٹرو میں کیا ایسا خاص ہے جس کیلئے بے پناہ سریا استعمال کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر بیرونی اداروں سے معاہدہ ہے تو گویا زیادہ کمیشن کیلئے اتنا لوہا ڈالا گیا ، انہوں نے کہا کہ سریے کی کوالٹی کے حوالے سے ایک الگ سکینڈل بھی آنے والا ہے، انہوں نے کہا کہ کرپشن خاتمے کے دعوے کرنے والوں کے16ممبران سینیٹ میں بک گئے ،اور زرداری کو ڈاکو کہنے والے نے اپنے ممبران اس کی جھولی میں ڈال دیئے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمیر فروشی سے بڑھ کر کوئی کرپشن نہیں ہو سکتی ، سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ ایوان کا وقار مستقبل میں مجروح نہ ہو سکے،،انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں کو تباہ کر دیا ہے ۔