صوبائی حکومت بجلی پیداوار کے منصوبے نجی سیکٹر کو دے کر صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کر رہی ہے، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے حکمران خیبر پختونخوا کو نظر انداز کر کے کوئلے سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے لاتعداد منصوبے موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومت پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کر کے قومی خزانے اور بیرونی امداد ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے صوبے میں 80پیسے فی یونٹ کے حساب سے پیدا ہونے والی بجلی یہاں کے غریب عوام پر 19روپے فی یونٹ فروخت کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ کم وولٹیج اور ناروا لوڈ شیڈنگ کے باعث صوبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے جبکہ تمام قدرتی وسائل ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کے امتیازی سلوک سے احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ بجلی ،گیس تیل ،معدنیات اور جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کی جانب کوئی توجہ نہیں جا رہی جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ دوسری جانب تبدیلی سرکار کی حکومت غیر ضروری منصوبوں کیلئے اربوں روپے کا قرض لے کر قوم کو تاحیات قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کی مہم پر عمل پیرا ہے، انہوں نے کہا کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو نجی سیکٹر کے حوالے کر کے صوبے کو بجلی کے منافع سے محروم کیا جا رہا ہے اور حکومت صوبے کے مستقل ذرائع آمدن اپنے چہیتوں میں بانٹنے میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دونوں لیڈر نواز شریف اور عمران خان پنجاب کا ووٹ بنک بڑھانے کی خاطر ہمارے صوبے کے وسائل کو پنجاب کی ترقی پر صرف کرنے کے ایک ہی نکتے پر متفق ہیں، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں پرانی اور بوسیدہ ٹرانسمیشن لائینیں تبدیل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے پاس رقم نہیں تاہم پنجاب کے کونے کونے میں بوسیدہ لائیں بحال کر کے کم وولٹج اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے پر تمام توانائیاں صرف کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں بجلی منصوبوں کیلئے اربوں ڈالرز پنجاب میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر صرف کئے جارہے ہیں اور خیبر پختونخوا کو بجلی پیداوار سے ہونے والی آمدن سے محروم کیا جا رہا ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت انصاف سے کام لے تو خیبر پختونخوا میں سستی بجلی پیدا کر کے عوام کو کم قیمت پر بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔